قلبی دانشور ۔ حکیم واڈیلہ

122

قلبی دانشور

حکیم واڈیلہ

دی بلوچستان پوسٹ

انسانی معاشرہ کبھی بھی جامد و ساکت نہیں ہوتا، ہلچل و تبدیلی انسانی معاشرے میں لازم ہوتے ہیں۔ معاشرے کی باریکیوں کو جاننے کے لیئے معاشرتی سائنس کو سمجھنا از حد ضروری ہے، معاشرے کا سائنسی انداز میں تجزیہ کرنا ہی تمام تر مسائل کو مربوط طریقے سے حل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ ان سب کیلئے علم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو مسائل کے حل کا صحیح ادراک فراہم کرتا ہے۔ بے علمی و کم فہمی معاشرے میں انتشار کا سبب بنتا ہے۔

یہ بات بھی یاد رہے کہ کسی غلام معاشرے میں علم کا پھیلاؤ قبضہ گیر ریاست کے مرہون منت ہوتا ہے۔ چونکہ ریاست اعلیٰ طبقاتی ادارہ ہے لہٰذا اس پر ایک طبقے کا غلبہ ہوتا ہے، پھر ریاست اسکی نمائندگی کرتی ہے۔ پاکستانی معاشرے کی ریاستی ساخت غیر واضح ہے۔ پاکستانی ریاست مرکزیت کی بنیاد پر استوار ہے، اس کی شکل و صورت مبہم ہے۔ ایک جانب قرون وسطیٰ کی طرح بہت بڑی جاگیرداریاں ہیں اور دوسری جانب قبائلی عناصر ہیں۔ ایک طرف گماشتہ سرمایہ داری ہے اور دوسری طرف تنگ نظر تجارتی عناصر ( موجودہ صورتحال میں اس کے طبقاتی عناصر و حکمران طبقہ بہت ہی تباہ کن حالات سے دوچار ہیں جسکی وجہ مافیائی سرمایہ ہے جو 1980ء کی دہائی سے افغان جنگ کے زمانے سے ابھری خیر یہ الگ بحث طلب مسئلہ ہے )

پاکستانی ریاست سرد جنگ کے زمانے سے ایک طفیلی ریاست رہی ہے، پاکستانی ریاست کا حکمران طبقہ انتہائی رجعتی رہا ہے۔ 1953ء سے سامراجی ممالک نے اس ریاست اور اس کے رجعتی حکمران طبقے کی بھرپور سر پرستی کرکے اس کی آبیاری کی جسکی وجہ سے پاکستانی حکمران طبقے نے جان بوجھ کر پاکستانی معاشرے کو تقسیم کرکے پسماندہ رکھا۔ دنیا بھر میں جدید ریاستیں اپنے عوام کی بنیادی مسائل کو بہت ہی زیادہ اہمیت دیکر ان کو حل کرنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر عمل کرکے ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرتے ہیں، اور ان جدید ریاستوں کی سب سے اعلیٰ خدمات تعلیم و صحت پر استوار ہیں۔ تعلیم بھی انتہائی جدید اور سائنسی، اور وہاں تعلیمی ادارے آزادانہ بنیادوں پر اپنے نصاب اور دیگر چیزیں ترتیب دیتے ہیں۔ اور ریاست و حکومتیں کوئی بھی مداخلت نہیں کرتے بلکہ مداخلت جرم ہوتا ہے۔

پاکستانی ریاست کا تعلیمی نظام انتہائی پسماندہ اور فرسودہ ہے اور بلوچ قوم کی بدبختی ہے کہ ان کا مادروطن بلوچستان ایک انتہائی خوفناک ملک کے زیر قبضہ ہے اور مظلوم بلوچ قوم اس خطرناک ملک کے غلام ہیں۔ پاکستانی ریاست کی باگ ڈور مکمل طور پر فوج کے ہاتھ میں ہے اور اصل حکمران فوج اور اسکے جنرل ہیں۔ پاکستانی تعلیمی نظام اور تعلیمی ادارے بھی اسی کے کنٹرول میں ہیں۔

بلوچ قومی آزادی کی جاری تحریک کو کچلنے کے لیئے پاکستانی ریاست نے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کیئے، مگر قومی تحریک کو ختم کرنے میں یہ ریاست ابتک ناکام ہے۔ کچھ سالوں سے اس ریاست نے ایک انتہائی شاطرانہ سازش شروع کی ہوئی ہے چونکہ بلوچ قومی آزادی اور بلوچ شعور کو اجاگر کرنے میں بلوچ دانشوروں اور بلوچ طلبہ کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ بلوچ طلبہ تنظیم بی ایس او نے ماضی میں اور موجودہ تحریک کے دوران بی ایس او آزاد نے انتہائی شاندار جدوجہد کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کے شعور کو وسعت دی ہے اور تحریک کو اعلیٰ رہنما اور بہترین دانشوروں سے نوازا ہے، چونکہ بی ایس او ماضی میں اور جاری تحریک کے دوران بی ایس او آزاد سرفیس میں رہ کر بلوچ نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں علم و آگہی دے رہے تھے۔ لہٰذا دوسرے سرفیس قومی آزادی سے وابسطہ پارٹیوں کو کچلنے کے ساتھ بی ایس او آزاد کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ نوجوان چونکہ کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہوتے ہیں، لہٰذا اس سازش کے تحت پاکستانی ریاست نے سرفیس کو کچلنے کے بعد تعلیمی اداروں میں چند مفاد پرست نام نہاد دانشوروں کو اساتذہ بناکر نوجوان ذہنوں کو پراگندہ بنانے کے لیے تعینات کیا۔

ان لالچی، مفاد پرست، نمود و نمائش کے بھوکے جاہ طلب خود غرض عناصر کو پروفیسر اور دیگر پوسٹیں دیکر نوجوانوں کی برین واشنگ شروع کردی۔ یہ عناصر انتہائی خودغرضانہ طریقے سے اپنے قوم کی بیخ کنی میں لگے ہوئے ہیں۔ اور بلوچ طلبہ کو کیریئرسٹ بنانے کے لیئے ان کو مختلف طریقوں سے تعلیمی اداروں میں بڑی تیزی سے مراعات دیکر تھوک حساب سے ڈگریاں دی جارہی ہیں۔ پاکستانی فرسودہ تعلیمی نظام سے بلوچ نوجوانوں کو تعلیمی گدھے بنایا جارہا ہے۔ اور یہ بات بھی واضح رہے کہ بلوچستان کے تمام اداروں اور خاص کر تعلیمی اداروں میں جو بڑی تقرریاں ہورہی ہیں، یہ سب فوج کی نگرانی بلکہ فوج کی ہدایت کے تحت ہورہے ہیں۔

علاوہ ازیں فوج کے اپنے تعلیمی اداروں میں بھی بلوچ نوجوانوں کو وظائف اور مراعات دیکر تعلیم دی جارہی ہیں۔ ان تعلیمی گدھوں کے پاس تعلیمی ڈگریوں کی بارش ضرور ہورہی ہے مگر علم کی نہیں۔ ان نوجوانوں کو مقابلے کے امتحانات میں رعایت دی جارہی ہے، اور ان تعلیمی اداروں میں تعینات کئے گئے اساتذہ بھی ان بلوچ نوجوانوں کو بہترین ملازمتوں کی لالچ دیکر اسی جانب راغب کررہے ہیں۔ پاکستانی پالیسی سازوں کو شاید اس بات کا ادراک نہیں کہ یہ ہتھکنڈے بھی بہت پرانے ہوچکے ہیں کیونکہ ماضی میں برطانیہ، فرانس اور دیگر استعماری طاقتوں نے یہی حربہ اپنے مقبوضہ جات میں اختیار کیا لیکن ان کے انہی تعلیمی اداروں سے اپنے قوم کے جانثار پیدا ہوئے۔ جنھوں نے اپنی ملازمتوں کو ٹھکراکر اپنی قومی آزادی کی تحریکوں کو دوام بخشااور اپنے قوم کی رہنمائی کی۔ عظیم منڈیلا نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ “قبضہ گیروں کا ہر حربہ اسی کے خلاف استعمال ہوگا”۔

ان نام نہاد چند مفاد پرست بلوچ دانشوروں اور پروفیسرز کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ آج قبضہ گیر ریاست ان کو جو مراعات اور اہمیت دے رہی ہے، یہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کی بدولت ہے۔ ورنہ قبضہ گیر ریاست کے سامنے اور کہیں ان کی حیثیت دو کوڑی کی بھی نہیں ہے۔ چند مفاد پرست بلوچ دانشور بلوچ ادب و ثقافت کو بھی پراگندہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سائنسی علم سے نابلد یہ دانشور: ان دانشوروں، ادیبوں، شاعروں کی شعوری توہین کررہے ہیں جنھوں نے ماضی میں اور حال میں اپنی قوم کی آرزوں اور امنگوں کی نہ صرف عظیم ترجمانی کی بلکہ قومی آزادی کی تحریک میں عملی شرکت کرکے اپنی قوم کی رہنمائی کی۔ پروفیسر واجہ شہید قندیل اسکی شاندار اور درخشاں مثال ہے۔ یہ نام نہاد چند مفاد پرست بلوچ دانشور ادب کو سیاست سے جدا اور انفرادی قرار دینے کی بھونڈی اور غیر سائنسی کوشش کررہے ہیں۔ قبضہ گیر سے مراعات لینے والے یہ جاہل اور عیاش دانشور جان بوجھ کر بے مقصد بحث و تعمیض کے ذریعے لوگوں کو الجھانا چاہتے ہیں۔

اب یہ ہم سمیت تمام آزادی پسند پارٹیوں کا قومی فرض ہے کہ ان عیاروں کی چالبازیوں کو ناکام بنائیں اور واضح پالیسیاں قوم کو دیں۔ اور ان عظیم دانشوروں کو جو حقیقی دانشور ہیں، اس وقت بھی قومی آزادی کی تحریک سے جڑت رکھ کر عملی جدوجہد کررہےہیں۔ یہ ہمارا قومی فرض ہے کہ ان حقیقی دانشوروں کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔ اپنی زبان، ثقافت اور تاریخ کو ان چند مفاد پرست نام نہاد دانشوروں کے ہاتھوں پرگندہ ہونے نہ دیں، اور وقتی مفاد پرست چند نام نہاد دانشوروں سے الجھنے اور ان سے بحث کرنے سے گریز کریں کیونکہ وہ یہی چاہتے ہیں اور یہ ماضی میں بھی ہوا ہے کیونکہ جب بھی بلوچ قومی تحریک عروج حاصل کرتی ہے تو ریاست ایسے بے ضمیر لوگوں کو سامنے لاتا ہے۔ 1972ء کی تحریک میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

مگر موجودہ جاری تحریک ماضی کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہے اور بہترین پڑھے لکھے رہنماؤں اور کارکنوں کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ تحریک بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکی ہے، اور ہمارے عظیم سرمچار جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان مفاد پرست چند نمود و نمائش کے بھوکے نام نہاد دانشوروں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کو ہزاروں شہدا نے اپنے لہو سے سینچا ہے۔ بلوچ قوم اپنی مادرگلزمین کو ضرور آزاد کرینگے ۔ اگر ان نام نہاد دانشوروں کے ضمیر میں ذرا سی مٹی کا خمیر موجود ہے تو انہیں چاہیئے کہ قبضہ گیر ریاست کی پر فریب جھانسوں سے باہر آجائیں۔ کیونکہ قبضہ گیر ریاست اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد ان کو گھاس بھی نہیں ڈالے گا کیونکہ قبضہ گیر ریاست کو اچھی طرح معلوم ہے کہ جو اپنی قوم کے نہیں ہوئے وہ کسی اور کے کیا ہونگے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔