روشنی کو کون روک سکتا ہے؟ تخلیق کار : شہید فدا احمد بلوچ

126

روشنی کو کون روک سکتا ہے؟
تخلیق کار :  شہید فدا احمد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

رژن ءَ کئے داشت کنت“ شہید وطن فدا احمد بلوچ کا بلوچی میں تخلیق کیا ہوا مضمون ہے جسے اردو میں ترجمہ کرکے اس لئے شائع کرانا چاہتا ہوں تا کہ شہید کے خیالات و نظریات بلوچ اوربالخصوص بلوچ طالب علموں کیلئے مشعل راہ ثابت ہو (مترجم)

زندگی برائے شعور، روشنی، آگاہی علم اور دانش لیکن روشنی کس طرح؟ ان لوگوں کیلئے یہ ایک ایسی بات ہے جو زندگی کی صداقتوں سے ہم آہنگی پانے میں کامیاب رہتے ہیں، منزل تک رسائی حاصل کرنے کے لئے آدمی کو کٹھن اور دشوار گزار راستوں کی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے، جہاں قدم قدم پر کانٹوں کی سیج سجی ہوئی ہے، ان تکلیف گزار راستوں سے بے خبر و لاعلم نہیں رہاجا سکتا، اگر کسی میں برداشت کی قوت نہ ہو اور اس میں تکلیف و مشکلات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو وہ یقینا مایوسی کی تاریکیوں میں کھو جائے گا اور مشکل ہے کہ وہ پھر کبھی ابھر سکے، آج ہم خوابوں کی دنیا کے باسی نہیں ہیں، ہمارے ابھرتے ہوئے معاشرے کی سرگرمیاں ہمیں اجازت نہیں دیتیں کہ ہم اپنی آنکھیں موندھ لیں، اور ہزاروں برسوں کی سرگرمیوں اور تغیرات سے خود کو لاعلم رکھیں، یہ سرگرمیاں اور تغیرات ہمیں اس بات سے بخوبی آگاہ کرتی ہے ہیں کہ صرف لفاظی، کھانے اور سونے سے کام نہیں بنیں گے، بلکہ اس سے آدمی تاریکیوں کے انتہائی قریب پہنچتا ہے، روشن نگائیں دیکھتی ہیں کہ انسانی ہاتھوں نے لوہے کو پگھلایا اور پھر جوڑ کر اپنی مختلف ضرورت کے تحت استعمال میں لاکر اپنا تابعدار بنایا، انسان نے عقل سے کام لیتے ہوئے دنیا کی حدوں سے پرے چاند اور ستاروں پر کمندیں ڈالیں انسانی ایجادات نے پوری دنیا کو قریب سے قریب تر کردیا، آج دنیا کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے شخص کی سرگوشی دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے ہوئے شخص کی کانوں تک پہنچ سکتی ہے، انسان نے اپنی فہم و دانش کے بل بوتے پر جہالت و جبر کے قلعوں کو روندا اور آخر کار تاریکی کے پاؤں اکھڑنے لگے، روشنی تاریکی کو للکار رہی ہے، اور تاریکی دن بہ دن خود کو محدود دائروں میں مقید کررہی ہے، انسان نے جنتر منتر سے یہ کام نہیں کیا ہے، اور نہ ہی فرشتوں نے ان کیلئے راستے وا کئے، حقیقتاََ اس جنگ میں انسان نے علم و دانش کے اسلحہ کو استعمال کیا جو اس کی ہر وقت کی جدوجہد کے عوض میں اس کے ہر فیصلے کے آگے ڈھال بن کر اس کی محافظ بنی ہے، کوئی شخص دن اور رات کے تفاوت کو سمجھ سکتا ہے وہ ضرور اس بات کو محسوس کرتا ہے اور مانتا ہے،یہ بھی سچ ہے کہ آج بھی دنیا کا ایک بڑا حصہ تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے، کیونکہ ظالم اور زردار کو اپنی بدکاریوں کی پردہ پوشی کی خاطر جہالت و تاریکی کی ضرورت ہے، کیونکہ دن کی روشنی میں ان کے بدنما چہروں اور خونخوار دانتوں کو کسی میں گاڑنے کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوں گے، کیونکہ دن آگے بڑھتے جاتے ہیں پیچھے نہیں۔

 غلطی کہاں پر ہے :

خوشحال زندگی کی تمنا ہر کسی کی چاہ ہے لیکن موندھی ہوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی کہ خوشحالی اگر ہزاروں میں سے صرف ایک مخصوص شخص یا چند مخصوص اشخاص کیلئے ہو وہ نہیں پہنچتی، وہی خوشحالی امر رہتی ہے جو سب کیلئے ہو، حقیقی خوشحال زندگی کیلئے ہماری نئی نسل کی خواہشات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، حقیقی خوشحالی کے حصول کی خاطر انہوں نے اپنی سنہری خواہشات کا گلا گھونٹا ہے، ہزار آفیرین کے مستحق ہیں یہ نوجوان لیکن اس خواہش و تمنا کی منزل مقصود تک پہنچنے کیلئے ضروری ہے کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ غلطی کہاں پر ہے، اور بات کہاں سے اوجھل و مبہم ہوگئی ہے۔

 دانشمندی :

ہم دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ دنیا میں ترقی و ارتقا ء کیلئے دانشمندی پہلی اور بنیادی ضرورت ہے، ہم دنیا سے الگ ایک دنیا نہیں بلکہ دنیا کی ضرورتیں ہماری ضرورتیں ہیں، اور اسی طرح دنیا کے طور طریقے بھی، پھر ہمیں دانشمندی اور جانکاری کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ دنیا کو۔

  آؤ  !

اپنے گچھوں کو جانچ کر دیکھیں کہ ان میں کیا ہے؟ آیا ہم اپنی سروں کو جھکائیں یا نہیں، لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہمارے گھچے خالی ہیں، اس میں نہ ہونے کی حالت میں ہمیں چاہیے تھا کہ ہم دانشمندی اور آگاہی سے رغبت رکھتے، مگر یہاں تو کچھ اور ہے، وسیع سرزمین پر پھیلے ہوئے لوگوں کی اکثریت روشنی اور دانشمندی سے محروم ہے اور اسی معاشرے میں زندہ لوگوں کا ایک چھوٹا سا حصہ جب روشنی کی تلاش میں نکلتا ہے اور اپنے علاقے کے لوگوں کی مدد کیلئے آواز دیتا ہے تو مدد کے بدلے انہیں دھتکاردیا جاتا ہے اور ساتھ دینے کے بجائے مایوسی اور ہنسی مذاق سے نوازا جاتا ہے۔

انسانی ہجوم :

جب بنجر اور سوکھے کھیتوں پر نظریں پڑتی ہیں تو لاچار اور مفلس لوگوں کا ایک ہجوم بے سروسامانی، ناامیدی اور کسمپرسی کی حالت میں نظر آتا ہے، جو اپنی طاقت اور قوت کو اپنے لئے کام میں نہیں لاسکتا بلکہ خوشحالی و امیری کے سراب کے پیچھے بھاگتا ہے جو کبھی بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا، اسی ہجوم میں سے چند ایک لوگ الگ ہوکر ایک خوشحال اور روشن مستقبل کیلئے نکل پڑتے ہیں ان کے راستوں پر کانٹے بچھاتے ہیں، گڑھے کھودتے ہیں، اور اسی طرح ان کے آگے بڑھنے کے جذبہ کو کمزور اور کچلنے کیلئے تیار رہتے ہیں، بعض اوقات کچھ جاہل اور زانتکار دوست بھی رقیبوں و دشمنوں کے ساتھ مل جاتے ہیں اور سدا بہار جذبوں کو الزام تراشی، بہتان اور خوف و دہشت سے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، بھوک و افلاس زدہ لوگوں کے سامنے اچانک چند نامدار شخصیات خود کو انسانوں کے اس ہجوم کی مالک گردانتے ہیں اور روشنی کے متلاشیوں کو زر و دولت کی چمک اور چکمدار کپڑوں کے عوض روشنی کی تلاش سے خبردار کرتی ہیں، دوسری طرف یہی شخصیات ہر وقت انسانوں کے بازار سے اپنے ہجوم کیلئے زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

 شیخ و واعظ :

دنیا کے گذشتہ ادوار گواہ ہیں کہ ایسی اقوام کی تلخ زندگی نہ تو واعظ و نصیحت اور نہ جنت کی بشارت سے شیریں ہوتی ہے، اور نہ ہی پیمانوں کے خمار سے ان کی تلخی ختم ہوتی ہے، مگر یہی خوش لساں خدائی دوست جو ہر وقت بڑے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ دنیاوی زندگی فائدہ مند نہیں، اور بھوکے و مفلسوں کو دوسری دنیا کے خوش ذائقہ پھل اور خوش رنگ دوشیزاؤں کی امید دلاتے ہیں لیکن خود اسی دنیا کی آسائشوں کیلئے تڑپتے ہیں اور موت کا نام لیتے ہی ان کے رونگھٹے کھڑے ہوتے ہیں، یہ خدائی دوست دراصل ان بے خداؤں کے بہترین دوست اور ساتھی ہیں جن کے مقاصد خدا کے مفلس بندوں کے قتل اور نیست و نابودی کی گھناؤنی سازش پر مبنی ہیں اور ان کی باتیں جیسے پیغمبر کے ارشادات ہوں یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسروں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنا ان کا بنیادی حق ہے اور علاقے کے بنیادی وارث ہر وقت دست بستہ ان کے سامنے کھڑے رہیں، یہ دونوں شیخ اور واعظ خود کو اعلیٰ مرتبہ پر فائز سمجھتے ہیں یا ان کے برابر و حیثیت کے ہوں اور خدا کے دوسرے بندگان کو چیونیٹوں کی حیثیت دیتے ہیں، لیکن کون نہیں جانتا کہ ان کے پیدا کردہ دشواریوں اور من گھڑت باتوں کے ہوتے ہوئے روشنی کے متلاشی کے قدم لمحہ بہ لمحہ آگے ہی آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ وہ ان پیدا کردہ کھنڈرات اور راستے کے کانٹوں کو تقدیر کا لکھا اور خدا کی منشاء نہیں سمجھتے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ لاچاری اور مفلسی کو تقویت پہنچانے والے یہی ظالم اور جابر ہیں جو اپنی ناانصافیوں اور غیر انسانی رویوں کو چھپانے کی خاطر چاروں اطراف ڈر، خوف اور جہالت کی جھوٹی کہانیاں گھڑتے رہتے ہیں لیکن دوسری طرف روشنی کے متلاشیوں کو یقین محکم ہے کہ روشنی کا سورج ضرور طلوع ہوگا لیکن اس کیلئے دانشمندی کے اسلحوں سے لیس ہونا ضروری و لازمی ہے

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔