بی این ایم چیئرمین کا سوشل میڈیا کیمپین میں کارکنوں کو حصہ لینے کی ہدایت

49

پارٹی کارکن بی ایس او کے سوشل میڈیا کمپئن میں بھرپور حصہ لیں – چیئرمین خلیل بلوچ

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے بی ایس او آزاد کے سابق چیئرمین زاہد بلوچ کی پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے پانچ سال پورا ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ گذشتہ دوعشروں سے غیر فطری ریاست پاکستان بلوچ قومی تحریک آزادی کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے جس ہولناک اور غیر انسانی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اس میں بی ایس او کے چیئرمین اور نوجوان سیاسی رہبر زاہد بلوچ بھی اسی بربریت کا شکار ہوئے جنہیں تنظیم کے کارکنوں کے سامنے کوئٹہ سے فورسز نے حراست میں لے کر اذیت گاہوں میں منتقل کیا ۔

خلیل بلوچ نے کہا بی ایس او جمہوری سیاست کے راہ پر گامزن ہے۔ بلوچ قوم بالخصوص بلوچ نوجوانوں میں سیاسی و جمہوری رویوں کی فروغ، انقلابی تعلیمات پھیلانے اور وسیع پیمانے پر عوامی تربیت کے ذریعے قومی تاریخ اور تحریک میں نمایاں خدمات سرانجام دیتا آرہا ہے اور اس کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ قومی تحریک میں ایک عہد زاہد بلوچ کا انقلابی رویہ، انقلابی فیصلوں اور تحریک کو ادارتی بنیادوں پر استوار کرنے کے کوششوں کا گواہی دے گا۔ زاہد بلوچ نے اپنے قوت فیصلہ اور دوراندیشی سے دوررس نتائج کے حامل فیصلے لینے میں کبھی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ یہی وہ بنیادی نقطہ ہے کہ دشمن نے بھانپ لیا تھا کہ زاہد جس راہ پر گامزن ہے جو دشمن کے قبضہ گیریت کے چولیں ہلادے گا اور یہ اس غیر فطری ریاست کے قبضہ گیریت کے تابوت کا آخری کیل ثابت ہوگا۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ زاہد بلوچ کا مشن ادھورا ہے۔ اس کی تکمیل ہربلوچ کا قومی فریضہ ہے اور زاہد بلوچ کی غیر موجودگی میں بی ایس او نے جتنے مظالم اور سختیوں کا مقابلہ کرکے اپنی سفر برقرار رکھا ہے یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ تحریک میں جب افراد نظریے کی روپ دھارتے ہیں تو ان کی غیر موجود گی ان کے مشن کے راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے مزید قوت و طاقت کا سبب بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کے تاریک زندان میں مقید زاہد کا پیغام آج بھی بلوچ کے ہرگدان میں پہنچ رہا ہے۔ اس عظیم پیغام کو ہر بلوچ لبیک کہہ کر قومی آزادی کے عظیم مشن ومقصد میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اس مقصد کے حصول تک قربانیوں کا یہ سفر جاری و ساری رہے گا۔ یہ دشمن کی بھول ہے کہ زاہد جیسے نوجوانوں کو اپنی درندگی و حیوانیت کا بھینٹ چڑھاکر وہ بلوچ قوم کو سرتسلیم خم کرنے پر مجبورکرے گا ۔

خلیل بلوچ نے کہا ہم انسانی حقوق کے تنظیموں پر واضح کرتے ہیں کہ آج بلوچ قوم نسل کشی سے دوچار ہے۔ یہاں انسانی حقوق کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں۔ زاہد بلوچ سمیت ہزاروں نوجوانوں کو دن کی روشنی میں لوگوں کے سامنے حراست میں لے کر لاپتہ کرنے پرعملی اقدامات نہ اٹھانا انسانی حقوق کے اداروں کے وجود پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ ایسے انسانیت سوز واقعات پر ریاست پاکستان تاریخ میں ضرور جواب دہ ٹھہرے گا۔

بی این ایم چئیرمین نے کہا کہ پارٹی کارکن بی ایس او کے سوشل میڈیا کمپئن میں بھرپور حصہ لیں۔ اس کے ساتھ میں پشتون، سندھی ، مہاجر اور دیگر مظلوم اقوام سے اپیل کرتا ہوں کہ 18 مارچ کو بی ایس او کے سوشل میڈیا کمپیئن میں حصہ لے کر پاکستان کی درندگی و حیوانیت کو دنیا کے سامنے عیاں کرنے میں بلوچ قوم کا ساتھ دیں کیونکہ پاکستا ن صرف بلوچ کا نہیں بلکہ محکوم اقوام کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کا دشمن ہے ۔