امریکہ کے ساتھ حتمی مذاکرات کےلئے طالبان نے 14 رکنی کمیٹی کا اعلان کر دیا

66

مذاکراتی وفد میں افغان حکومت کی قید سے رہا ہونے والے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ مولوی جلال الدین حقانی کا  بیٹا انس حقانی بھی شامل ہے ۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک رپورٹ کے افغانستان میں امن کے قیام اور امریکی فوجیوں کی انخلاء کے حوالے طالبان نے امریکہ کے ساتھ حتمی مذاکرات کےلئے 14 رکنی مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کر دیا ۔

مذاکراتی کمیٹی میں گوانتاناموبے  کی جیل سے رہا ہونے طالبان رہنماوں کے علاوہ حال ہی میں افغان حکومت کی قید سے رہا ہونے والے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ مولوی جلال الدین حقانی کا بیٹا انس حقانی بھی شامل ہے ۔

واضح رہے کہ انس حقانی کی رہائی کی طالبان نے تردید کی تھی لیکن اب جبکہ مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کیا گیا تو اس میں انس حقانی کا نام شامل ہے ۔

طالبان کے مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ ہندوستان کے بھگت سنگھ اکیڈمی سے ملڑی تربیت حاصل کرنے والے اور افغانستان میں کمیونسٹ پارٹی کے ممبر اور پھر مجاہدین و طالبان کے ساتھ شامل ہونے عباس ستانگزئی کررہے ہیں ۔

جبکہ مذاکراتی کمیٹی کے دیگر ممبران میں مولوی ضیاءالرحمان مدنی ،مولوی عبدالسلام حنفی،شیخ شہاب الدین دلاور، ملا عبدالمنان عمری، امیر خان متقی ، ملا فاضل مظلوم،ملا خیر اللہ خیر خواہ، مولوی مطیع الحق، ملا محمد انس حقانی، ملا نور اللہ نوری، مولوی نبی عمری اور عبدالحق وثیق شامل ہیں ۔

طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے خیال کیا جارہا تھا کہ اس میں حال ہی میں  پاکستان کی قید سے رہا ہونے والے ملا برادربھی شامل ہونگے ۔

ملا برادر کے مذاکراتی وفد میں شامل نہ ہونے پر طالبان کے مرکزی رہنما نے دی بلوچستان پوسٹ کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ملا بردار کا جھکاو پاکستان کی طرف زیادہ ہے اسی لئے اسے مذاکراتی وفد میں شامل نہیں کیا گیا ۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز بھی طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکہ کے ساتھ طالبان کے مذاکرات میں پاکستان کے کردار ادا کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ان مذاکرات کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ ان مذاکرات کا آغاز خود طالبان نے کیا تھا ۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز طالبان کے مرکزی رہنما نے میڈیا سے گفتگو میں یہ انکشاف کیا تھا کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی خاطر بطور دباو ہمارے اہلخانہ کو قید میں رکھا ۔

اسی طرح گذشتہ روز پشاور سے پاکستان نے ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو گرفتار کیا تھا تاہم طالبان نے ان کی گرفتاری کی تردید کی تھی لیکن مصدقہ اطلاعات کے مطابق ملا یعقوب 8 دن تک قید میں رہنے کے بعد رہا کردیئے گئے ۔