امریکہ سے مذاکرات کےلئے پاکستان نے بطور دباو ہمارے اہلخانہ کو قید کرلیا – طالبان رہنما کا انکشاف

332

امریکی حکام اور طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پس پردہ رہتے ہوئے امریکا کے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے، جس میں مذاکرات کے لیے سفری معاونت بھی شامل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستانی تعاون کی تفصیلات اس طرح پہلے واضح نہیں ہوئیں، جس میں عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کے افراد کو حراست میں لینا بھی شامل تھا اور ان طالبان رہنماؤں پر دباؤ ڈالنا بھی تھا جو تعاون کرنے میں ناکام رہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات میں پاکستان کا کردار نازک ہے، اسلام آباد طالبان پر وسیع اثر و رسوخ کی نمائش سے بچنا چاہتا ہے کیونکہ واشنگٹن ایک طویل عرصے سے اس بات کا الزام لگاتا آرہا ہے اور اسی تناظر میں یہ خبردار کیا گیا ہے یہ مدد عارضی ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب طالبان بھی اسلام آباد کو نظر انداز کرنے کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے امریکا کہ اس الزام کو مسترد کرتا آیا ہے کہ افغانستان میں اثر رسوخ برقرار رکھنے کے لیے باغیوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے طویل ترین تنازع سے نکلنے کا مسلسل عندیہ دے چکے ہیں جبکہ رواں ہفتے اسٹیٹ آف دی یونین سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ’عظیم قومیں نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں لڑتیں‘۔

اس تمام صورتحال پر ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے بارے میں کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ ان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا، انہوں نے دوحہ میں مذاکرات کے لیے کچھ تحریک اور سفر کی معاونت فراہم کی‘۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب افغانستان میں سیاسی حل کے لیے مذاکرات کو تیز کیا جارہا اور گزشہ ماہ دوحہ میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے طالبان کے ساتھ 6 روزہ مذاکرات کا دور کیا، جو شاید اب تک کا سب سے کامیاب دور تھا، اس کے علاوہ وہ رواں ماہ 25 فروری کو ان کی طالبان نمائندوں سے ملاقات متوقع ہے۔

طالبان ذرائع کہتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کا کردار اہم تھا، مثال کے طور پر اسلام آباد نے مذہبی رہنماؤں کے ذریعے عسکریت پسندوں کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ امریکا سے بات کریں۔

ایک طالبان رہنما نے بین الاقوامی خبررساں ادارے کو بتایا کہ انہوں نے دباؤ ڈالنے کے طریقے کے طور پر طالبان اراکین کے اہل خانہ کو قید کرلیا۔

طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس سے پہلے پاکستان کو اتنا سنجیدہ کبھی نہیں دیکھا‘۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرف پر بات کرنے والے طالبان رہنما کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی ماہ میں عسکریت پسنت اور ان کے قریبی رشتے داروں پر ’بے مثال دباؤ‘ برقرار رکھا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے ہم (طالبان) پر واضح کیا کہ ہمیں امریکا اور افغان حکومت سے بات چیت کرنی چاہیے‘۔   خیال رہے کہ امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کو چلانے والے امریکی جنرل جوزف ووٹل نے بھی رواں ہفتے سینیٹ اجلاس میں پاکستانی معاونت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد نے ’بہت زیادہ مددگار کردار ادا کیا‘۔

دباؤ سے نکلنا

ادھر پاکستان ذرائع کہتے ہیں کہ اس مذاکرات کے لیے ان کے ملک کی حمایت کے پیچھے کا مقصد امریکی امداد نہیں بلکہ علاقائی اقتصادی صورتحال پر بڑھتے ہوئے خدشات ہے جو افغانستان سے امریکی واپسی سے یکدم ختم ہوسکتا ہے۔

یہ تحفظات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے کو مزید تقویت دیتے ہیں جو انہوں نے دسمبر میں پینٹاگون کے اعتراضات کے باوجود لیا تھا اور شام سے مکمل طور پر امریکی فوجی انخلاف کا کہا تھا۔

اگرچہ اس وقت افغانستان میں 14 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں لیکن ان کی موجودگی افغانستان کے لیے امریکی امداد کو مسلسل گراوٹ کو یقینی بنا رہی ہے۔

ادھر اسلام آباد کو غیر ملکی زرمبادلہ میں کمی کا سامنا ہے اور وہ 1980 سے 13 ویں مرتبہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈز سے بیل آؤٹ پیکج کے لیے بات چیت کررہا ہے اور وہ کہتا ہے کہ وہ افغانستان میں بدامنی دیکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اپنی معیشت بڑھانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کر رہا ہے۔

اس بارے میں سرحد بار تعلقات کو دیکھنے والے ایک سینئر عہدیدار کو کہنا تھا کہ ’تمام معاملات میں یہ سب سے اہم ہے اور ہمارے پاس پہلے ہی بہت معاشی مسائل ہیں جن سے نمٹنے کی ضرورت ہے‘۔

واضح رہے کہ مذاکرات میں مدد کے لیے پاکستانی خواہش کی سب سے قابل توجہ نشانی یہ تھی کہ انہوں نے طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کو رہا کیا اور اب مذاکرات کے نومنتخب سربراہ ملا برادر کا 25 فروی کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت کا امکان ہے۔