ارمان لونی، ایک روشن دماغ نہ رہا – لطیف بلوچ

94

ارمان لونی، ایک روشن دماغ نہ رہا

تحریر: لطیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

 

ارمان لونی کا قتل پشتون قوم اور خصوصاً پی ٹی ایم کے سرگرم کارکنوں کے لیئے ریاست کی جانب سے ایک سخت پیغام تھا، جو اس قتل کے ذریعے پشتون قوم کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کی جدوجہد سے دستبردار ہوجائیں اور ریاستی ظلم و جبر، ناانصافیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموش رہیں، آواز نہیں اُٹھائیں، لاپتہ افراد کی بات نہیں کریں، جنوبی وزیرستان سمیت پشتونخواہ میں جاری ریاستی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد نہیں کریں۔ پشتون گذشتہ کئی دہائیوں سے بدترین ریاستی جبر اور بربریت کا شکار ہیں، پاکستانی فوج نے وزیرستان کو طالبان کے بیس کیمپ میں تبدیل کرکے دنیا جہاں کے دہشت گردوں کو لاکر وزیرستان میں آباد کیا اور ان کے ذریعے پشتونوں کی معاشی، سیاسی، سماجی اور جسمانی نسل کشی کا آغاز کیا، پشتونوں کی بنیادی انسانی حقوق کو انتہائی بُری طرح پامالی کا آغاز کیا گیا، خواتین پر بہت سخت قسم کی پابندیاں عائد کی گئیں، بچیوں کی تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگائی گئی، اسکولوں سمیت دیگر انفراسٹریکچر کو تباہ و برباد کیا گیا۔

پہلے طالبان سمیت دیگر دہشت گردوں کو یہاں لاکر آباد کیاُ گیا، پھر اُن کے خلاف آپریشن کا شوشا کرکے اپنے اثاثوں کو محفوظ راستہ دے کر مذکورہ علاقوں سے نکالا گیا اور آپریشن کی نام پر غریب پشتونوں کے گھروں، کاروبار اور زراعت کو تباہ و برباد کیا گیا اور وہاں کے مقامی لوگوں کو وہاں سے نکال کر آئی ڈی پیز کے کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ جو آج تک انہی کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

انہی مظالم کے خلاف پشتونوں میں نفرت کا لاوا پک رہا تھا اور یہ آتش فشاں اُس وقت پھٹ گیا اور لاوا پورے پاکستان میں پھیل گیا جب گذشتہ برس ایک پشتون نوجوان نقیب اللہ محسود کو کراچی میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا، اس جبری قتل کے خلاف محسود تحفظ موومنٹ نے اسلام آباد میں دھرنا دیا، دھرنے کے شرکاء کے مطالبات انتہائی سادہ قسم کے تھے، وہ نقیب محسود کے قتل میں ملوث پولیس آفیسر راو انوار کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینے، لینڈ مائنز کو صاف کرنے، آئی ڈی پیز کو اُن کے علاقوں میں دوبارہ آباد کرنے، وزیرستان میں بے جاء چیک پوسٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے اور اس دھرنے کے دوران محسود تحفظ موومنٹ کو پشتون تحفظ موومنٹ میں تبدیل کردیا گیا اور پاکستان بھر کے پشتون جوق و در جوق بڑی تیزی سے اس تحریک کا حصہ بننے لگے۔

ارمان لونی اُن پشتون نوجوانوں میں سے ایک تھا جو پشتونوں کے درد و تکلیف کو محسوس کررہا تھا، جس کے دل میں ایک درد تھا، وہ اپنے قوم کو ظلم و جبر کے جکڑے زنجیروں سے آزاد کرنا چاہتا تھا، وہ بھی نہ صرف خود بلکہ اپنی بہن کے ہمراہ پی ٹی ایم کا حصہ بن گیا۔ پشتون قبائل میں عورتوں کی گھر سے نکلنے کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے، جب ارمان نے اپنی بہن وڑانگہ کے ہمراہ پشتون تحریک میں سرگرم کردار ادا کرنا شروع کیا تو انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس نے ان فرسودہ خیالات اور سوچ کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا، وہ تحریکوں میں خواتین کے موثر کردار کا قائل اور حامی تھا، ارمان رجعت پسند معاشرے میں روشن خیال و روشن دماغ انسان تھا۔ وہ فرسودہ روایات، تصورات اور خیالات کے بجائے روشن خیالات، ترقی پسندانہ روایات اور سائنسی و علمی تصورات کو پروان چڑھانے کے قائل تھے۔
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
شہر میں اِک چراغ تھا نہ رہا

اس لیئے وہ اندھیروں کے پُجاریوں کو کھٹکتا تھا، جو دلیل، منطق اور شعور کے بجائے گولی، تشدد اور قتل پر یقین رکھتے ہیں۔ زبان بندی کے لئے تشدد اور گمشدگیوں کا سہارا لیتے ہیں، شعور سے ڈرتے ہیں، اس لیئے اُنہوں نے شعور اور روشن دماغوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا، شہید پروفیسر ابراھیم ( ارمان لونی) شہید پروفیسر اُستاد صباء دشتیاری اور ڈاکٹر حسن ظفر عارف کو قتل کردیا، یہ تین جسموں کا قتل نہیں بلکہ علم و دانش اور شعور کا قتل تھا، ارمان ایک روشن چراغ تھا جس کو بجھا دیا گیا لیکن ارمان کی لہو سے ہزاروں چراغ روشن ہوگئے ہیں۔

ارمان لونی کے کچھ ارمان تھے، وہ اپنے قوم اور وطن کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ وہ پشتون اور بلوچ فرسودہ معاشروں میں علم و شعور کی روشنی پھیلانے کا خواہش مند تھا، وہ بے زبانوں کو زبان دینا چاہتا تھا، بولنا اور حق و انصاف کے لئے آواز اُٹھانا سکھاتا تھا، یہ اُس کا سب سے بڑا جرم و قصور تھا، جس کی پاداش میں اُنھیں تشدد کرکے مار دیا گیا۔ ارمان کے قتل سے علم و دانش اور شعور و فکر کی راہیں مسدود ہرگز نہیں ہونگے بلکہ شعور کے مزید بند دریچے کھلیں گے، ارمان کے خون سے ہزاروں ارمان جنم لیں گے کیونکہ خون رائیگاں نہیں جاتا، ارمان کے ارمانوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پشتون متحد و منظم ہوجائیں، نفرتوں، استحصال، ظلم و جبر اور عورتوں پر مظالم سے پاک اور ایک آزاد و خود مختیار ، خوشحال پشتون وطن کے قیام کے لئے جدوجہد کریں۔

ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے، آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔