متحدہ عرب امارت راشد بلوچ کوعدالت میں پیش کرکے انصاف کے تقاضے پوراکرے۔ بی این ایم

192

ترجمان نے کہا کہ راشد بلوچ انسانی حقوق کا سرگرم کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہے۔ اس کے خاندان کے بیشتر افراد کو پاکستان نے ماورائے قانون قتل کردیا ہے اور وہ اپنی زندگی بچانے کے لئے دبئی میں مقیم تھے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ راشد بلوچ کا متحدہ عرب امارات میں بغیر کسی جرم و وارنٹ گرفتاری ایک افسوسناک امر اور انسانی حقوق کی صریحاََ خلاف ورزی ہے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو عرب اور بلوچ قوم کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کے منافی عمل ہے۔ جب بلوچ قوم اپنی آزاد ریاست کا مالک تھا تو ہمسایہ عرب ممالک سے ان کے تعلقات مثالی تھے. متحدہ عرب امارات میں بلوچ فرزندوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے جہاں وہ محنت مزدوری کے علاوہ فوج، پولیس سمیت کئی محکموں میں اہم عہدوں پر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ آج جب بلوچ قوم غلام ہے اور پاکستانی مظالم کا شکار ہے تو اس کا مطلب نہیں کہ ہماری حیثیت من حیث القوم ختم ہوگئی ہے بلکہ ان مظالم کے خلاف جد و جہد نے ہماری تاریخ، ثقافت و روایات کو مزید توانا اور اجاگر کیا ہے۔ اس مشکل گھڑی میں عرب ممالک کو ہم پہ قابض پاکستان کے دھوکے میں آنے کے بجائے زمینی حقائق اور مستقبل کا ادراک کرکے انسان دوستی اور قوم دوستی کا ثبوت دینا چاہیئے۔

ترجمان نے کہا کہ راشد بلوچ انسانی حقوق کا سرگرم کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہے۔ اس کے خاندان کے بیشتر افراد کو پاکستان نے ماورائے قانون قتل کردیا ہے اور وہ اپنی زندگی بچانے کے لئے دبئی میں مقیم تھے جہاں سے انہیں امارات کے خفیہ ایجنسی نے حراست میں لیاتھا اورآج پاکستانی حکام نے چینی کونسل خانے پر حملہ کا سہولت کار پیش کرکے اماراتی سرکار اور دنیا کو گمراہ کرنے اور راشدبلوچ کے حق میں اٹھنے والوں آوازوں کو دبانے کی کوشش کی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ عشروں سے خلیجی ممالک میں روزگار کے لئے جاتے رہے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ حالیہ وقتوں میں پاکستان فوج کی زمینی و فضائی بمباری اور بربریت ہے جس نے بلوچ قوم کے لئے اپنی سرزمین تنگ اور معاشی ذرائع تباہ کردئے ہیں۔ حصول روزگار اور اپنی زندگی کی تحفظ کے لئے ہزاروں کی تعداد میں بلوچوں نے ہمسایہ عرب ممالک کا رخ کیا ہے۔ راشدبلوچ انہی میں سے ایک ہیں۔ چینی قونصل خانے پر حملے کے نام پر راشد بلوچ کو پاکستان کے حوالے کیا گیا تو اس کا صاف مطلب ان کی ماورائے قانون وانصاف قتل ہے کیونکہ بلوچستان میں پاکستانی ریاست کے ہاتھوں بلوچ واضح نسل کشی کے عمل سے گزر رہا ہے اور اس وقت بلوچ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی حراست میں ہیں۔ اگر راشد بلوچ کو پاکستان کے حوالے کیا جاتا ہے تو یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک ہزاروں بلوچوں کو غیر یقینی کے عمل دوچار کرے گا جہاں وہ اپنی زندگی کے تحفظ کے مسئلے پر مطمئن وقت گزاررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک دہشت گرد اور دوغلی پالیسیوں کا حامل ملک ہے جس پر اعتبار دانش مندی نہیں بلکہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان پر بھروسہ کرکے اس کی بے پناہ مدد کی تو یہ دہشت گردی کے مزید افزائش پر خرچ ہوئے اورپاکستان نے امریکہ اور آزاد دنیا کے خلاف محاذ کھول کر مشکلات پیدا کیں۔ عرب ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو پاکستان کے ساتھ ملزموں کے حوالگی یا سرمایہ کاری کے معاہدے کرنے سے پہلے مغربی ممالک سے پاکستان کی دوستی کی مثالوں کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرنا چاہیئے۔ راشد بلوچ کو پاکستان کی جانب سے چینی قونصل خانہ پر حملہ کی سہولت کار قرار دینا محض ان ممالک میں بلوچوں کے ذریعہ معاش کو مزید تباہ اور بلوچ قوم کو نیست و نابود کرنے کی پالیسیاں ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ نیشنل موومنٹ متحدہ عرب امارت کے سرکار سے اپیل کرتا ہے کہ اگر راشد بلوچ پر کسی قسم کے الزامات ہیں تو اپنی عدالت میں انہیں پیش کرکے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے اور انہیں کسی بھی قیمت پر پاکستان کے حوالے کرنے سے گریز کرے۔ اس کے ساتھ ہی ہم عرب اقوام سے اپیل کرتے ہیں کہ تاریخی سچائیوں کے تناظر میں بلوچ قومی تحریک کی عملی حمایت اور مدد و اعانت کرے کیونکہ بلوچ ایک ایسے آزاد وطن کی جد و جہد میں مصروف ہیں جو ہمسایہ ممالک، خطہ اور پوری دنیا کیلئے امن کا منبع و مرکز ثابت ہوگا اور خطے کی دہشت گردی سے نجات ،پائیدادترقی اور امن وسلامتی کا ضامن آزاد بلوچ وطن ہے۔