سرمچار اور طالبان – زیران بلوچ

191

سرمچار اور طالبان

 تحریر : زیران بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

بلوچستان ایک جیل بنا ہوا ہے، جہاں کوئی نہ اپنی مرضی سے جی سکتا ہے اور نہ ہی اپنی مرضی سے کوئی خوشی یا غم منا سکتا ہے، اور نہ ہی کوئی اپنے حقوق کے لیئے آزادانہ طور پر آواز آٹھا سکتا ہے۔ ہر شخص جبر کے سائے تلے بے بسی سے مر مر کے جی رہا ہے۔ نہ انسان محفوظ، نہ حیوان اور نہ ہی چرند و پرند، ہر شے اور ہر مخلوق قیدی سی زندگی گذار رہی ہیں اور سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ بلوچستان وہ جیل ہے، جو نہ کسی انسانی حقوق کے ادارے کو دیکھائی دیتی ہے اور نہ ہی کوئی انٹر نیشنل میڈیا اِس جیل کو کور کرتی ہے۔ جو انسانی حقوق اور عالمی میڈیا، بشمول یو این او پہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ انسانی حقوق کے چیمپئن، اقوام متحدہ، تہذیب یافتہ ممالک، انٹرنیشنل میڈیا تب تک خاموش رہیں گے، جب تک ہم خاموش ہیں، ہم قربانی نہیں دیتے، ہم جنگ نہیں کرتے یا ہماری جنگی صلاحیت کمزور ہے کیونکہ اگر دنیا کو دیکھا جائے تو وہ طاقت کو سلام کرتی ہے، طاقتور کو سُنتی ہے طاقتور کو اہمیت دیتی ہے۔

ہم مظلوم ہیں نہ ہمارے پاس میڈیا ہے، نہ کوئی اچھا اسلحہ اور نہ جنگی حکمت عملی، تو کیونکر دنیا ہماری آواز کو سُنے گا۔ کیسے میڈیا ہماری آواز کور کرسکے گی، ہم ہر روز یہ بیان داغ دیتے ہیں کہ ہم اقوام متحدہ یا جنیوا کنوینشن کے تحت دشمن سے نبرد آزما ہیں، بھائی دنیا کو کیا لینا دینا اقوام متحدہ سے یا جینیوا کنوینشن سے، دنیا بہری اور اندھی ہوچکی ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کو پاکستانی فوج کتنی اہمیت دیتی ہے، یہ ہم سب کو پتہ ہے۔ جب اقوام متحدہ خود کی “چارٹر “ کی حفاظت نہیں کرسکتا تو ہماری لئے آواز کیسے اٹھائے گا؟ اور مدد کو کیسے پہنچے گا؟ کیا انٹرنیشنل میڈیا کو بلوچستان کا پتہ نہیں؟ یا بلوچستان کسی اور سیارے پہ ہے؟ کیا انسانی حقوق والوں کو بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں اور جبری گُشدگی کا پتہ نہیں ہے؟ دنیا کو سب پتہ ہے مگر اپنے مفادات اور پاکستان کی دہشت گردی کی وجہ سے خاموش اور تماشائی بنی ہوئی ہے۔

اگر ہم طاقت اور شدت سے جنگ کریں، تو دنیا ہماری آواز کو سُنے گی اور ہماری مدد بھی کرے گی اور انٹرنیشنل میڈیا ہماری حالات زار کو کور کرنے کو بھی آ پہنچے گی۔

دنیا کے سامنے طالبان کیا تھے؟ نائن الیون کے بعد دنیا کے سامنے طالبان دہشت گرد، اسلامی بنیاد پرست، ظالم، خونخوار اور درندے تھے، مگر آج دنیا اُن کے بارے میں کیا سوچتی ہے؟ کیو ں دنیا مجبور ہوگئی کہ مذاکرات کا راگ الاپ رہی، کیوں خطے کے طاقتور ممالک اُن کو سپورٹ کررہی ہیں؟’’2001 میں تو صرف پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات طالبان کو تسلیم کرتے تھے۔ آج چین، روس، ایران سمیت کئی ملک ان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ بارہ بارہ ملکوں کے اجلاس میں وہ شرکت کرتے ہیں، سفارتی اور سیاسی اعتبار سے طالبان 2001 کے مقابلے میں کہاں کھڑے ہیں؟ آج پاکستان، ایران، روس چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر کئی ملکوں کے ساتھ طالبان کے سفارتی رابطے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں تو مذاکرات کا مقام سعودی عرب سے قطر تبدیل کرا دیتے ہیں‘‘۔
۔’’ طالبان اس وقت پوری دنیا کے اتحادی افواج سے لڑنے میں مصروف ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ کیوں دنیا اب مجبور ہےکہ مذاکرات کررہی ہے؟

اصل وجہ طاقت ہے وہ بھی جنگی طاقت اور قربانی ہے۔ یہ نہیں کہ بلوچ جنگ نہیں کررہی ہے یا قربانی نہیں دے رہی ہے، بلوچ کو ایک ناقابل شِکست جنگی حکمت عملی اپنانی ہوگی، ایسی جنگی حکمت عملی، جو شہید جنرل نے اپنایا تھا، کہ ایک طاقتور فوج کو اِس قدر لاچار اور بے بس کردیا تھا کہ اُس کو ٹارگٹ کرنے کے لیئے ایک خودکُش کو استعمال کرنا پڑا۔
بلوچ کے پاس سوائے جنگی طاقت کے اور کوئی طاقت نہیں ہے جو اُسے آزاد کرسکے۔

دی بلوچستان پوسٹ : اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں ۔