مختلف آزادی پسند بلوچ رہنماؤں کا کندھار حملے کی مذمت

106

 

دی بلوچستان پوسٹ سوشل میڈیا رپورٹر کے مطابق مختلف آزادی پسند بلوچ رہنماؤں نے سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹوئٹر پر کندھار حملے کی مذمت کی ہے۔

 

معروف آزادی پسند بلوچ رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ نے ایک ٹویٹ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” کندھار پولیس چیف کا قتل پاکستان اور اسکے دہشتگرد آئی ایس آئی کا افغانستان اور اس خطے کو عدم کا شکار کرنے کے غلیظ کھیل کا شاخسانہ ہے۔ میں بہادر جنرل عبدالرازق کو سلام پیش کرتا ہوں، جس نے ایک بہادرانہ موت کا چناؤ کیا۔ اب وقت آچکا ہے کہ عالمی قوتیں پاک افغان پالیسی پر نظرثانی کریں اور ایک مکمل نئی حکمت عملی ترتیب دیں۔”

یاد رہے گذشتہ دن ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران محافظ کے فائرنگ سے افغانستان کے سب سے طاقتور جنرل سمجھے جانے والے جنرل عبدالرازق اچکزئی، این ڈی ایس کندھار کے سربراہ جنرل مومن اور گورنر کندھار زلمے ویسا جان بحق ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

 

دریں اثناء بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین رحیم بلوچ نے سماجی رابطے کے ویب سائٹ پر اس بابت اپنے ٹویٹ میں کہا کہ”  کندھار پولیس چیف جنرل عبدالرازق، گورنر کندھار زلمے ویسا اور دوسروں پر حملہ، پاکستانی حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے افغانستان میں امن، جمہوریت اور استحکام پر حملہ ہے۔ میں متاثرہ خاندانوں اور افغان عوام سے اظہار تعزیت کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں، وہ مظبوطی کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔”

اس بابت بزرگ آزادی پسند رہنما میر عبدالنبی نے جنرل رازق کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ” کٹر قوم پرست کندھار پولیس چیف حاجی عبدالرازق کی شہادت یقیناً افغان قوم اور امن کیلئے بہت بڑا نقصان ہے۔ بلوچوں کی طرف سے ہم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور شہداء کے خاندان، اقرباء اور افغان عوام سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں۔”

بلوچ ریپبلکن آرمی کے سینئر کمانڈر گلزار امام نے اس واقعے کو ایک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” آج ہم نے ایک عظیم افغان قوم پرست جنرل رازق کھودیا ہے۔ ڈاکٹر نجیب کے شہادت کے بعد افغان قوم کیلئے یہ دوسرا سب سے بڑا سانحہ ہے۔”