دنیا کے سب سے بڑے “وار ویٹرن فورم” کی بی ایل اے شاہرگ حملے فوٹیج کی ستائش

284
Screen grab from balochliberationvoice.net

تیس لاکھ سے زائد فالوور رکھنے والے اس آن لائن کمیونٹی نے جمعرات کو اپنے آفیشل ویب سائٹ پر تبصرہ کیا ہے کہ “بلوچ لبریشن آرمی اپنے تعقاتِ عامہ اور اظہارِ میڈیا میں قابلِ ذکر حد تک بہتری لاچکی ہے۔”

فنکیر530 سابق جنگی فوجیوں کا ایک آن لائن کمیونٹی ہے، جسے فالو کرنے والی اکثریت سابق فوجی ہیں۔ انہوں نے اپنے آفیشنل ویب سائٹ پر بلوچ لبریشن آرمی کے حال ہی میں نشر ہونے والے شاہرگ حملے کے ویڈیو پر اپنے تبصرے جاری کئیں ہیں۔

یہ کمیونٹی جسے چلانے والے زیادہ تر افغانستان و عراق میں لڑنے والے سابق فوجی ہیں۔ انہوں نےاپنے ویب سائٹ پر بی ایل اے کے اس ویڈیو فوٹیج کا ایک حصہ بھی نشر کیا ہے۔

اس کمیونٹی کا کہنا ہے کہ “بی ایل اے پہاڑی چوٹی پر قائم پاکستانی آرمی کے چوکی پر چھوٹے ہتھیاروں اور راکٹ لانچروں سے حملہ کرتا ہے۔ بالآخر بی ایل اے کا ایک جنگجو پاکستانی فوجیوں کے احاطے میں گھس جاتا ہے اور چھوٹے ہتھیاروں سے پاکستانی فوجیوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ شروع کردیتا ہے اور ایک نقطے پر پہنچ کر فوجی وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔”

تبصرے میں مزید کہا گیا ہے کہ ” ویڈیو کا اختتام ایک لاش اور لُوٹے ہوئے اسلحہ و بارود کو دِکھانے پر ہوتا ہے۔”

سابق افواج کی کمیونٹی مزید کہتا ہے کہ ” بی ایل اے پاکستانی فوج اور دوسرے تنصیبات پر گذشتہ 20 سالوں سے حملے کرتی آرہی ہے۔ بلوچوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں محدود نمائیندگی حاصل ہے اور سیاسی کارکنان اسلام آباد پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں، عدم مساوات اور بلوچستان میں اسلامی شدت پسندی کو پھیلانے میں ملوث ہے۔ انکا دعویٰ ہے پاکستان بلوچوں کی پہچان مٹارہی ہے۔”

سابق افواج کی کمیونٹی اپنے تبصروں میں اس بات کی تائید کرتی نظر آتی ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے ویڈیوؤں میں مذہبی جنونیت کے کوئی آثار نہیں ہوتے بلکہ انکی توجہ اپنا سیاسی پیغام پہنچانا ہوتا ہے جو خودمختاری و آزادی ہے۔

یہ آنلائن کمیونٹی، جس کے سوشل میڈیا پر تیس لاکھ سے زائد فالورز ہیں وہ بی ایل اے کے اظہار ذرائع ابلاغ اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتی نظر آتی ہے۔

اپنے ویب سائٹ پر اس بابت انکا کہنا ہے کہ ” اس ویڈیو میں جو اہم بات نظر آتی ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اپنے تعقاتِ عامہ اور اظہارِ میڈیا میں قابلِ ذکر حد تک بہتری لاچکی ہے، اپنے پرانے ویڈیوؤں کے برخلاف جن کا معیار کم اور بری طرح فلمائے جاتے تھے اس نئی ویڈیو کو اچھے کوالٹی اور بہتر تیکنیکوں سے فلمایا گیاہے۔ اس فوٹیج کو مزید انگریزی زبان میں ایڈیٹ کیا گیا ہے۔ بی ایل اے کا ویب سائٹ پہلے کے نسبت زیادہ جدید اور بہتر ہے۔”

اس تبصرے کو مذکورہ آن لائن کمیونٹی کے آفیشل فیس بک پیج پر بھی اس جملے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے کہ ” ایک تنہا جنگجو فوجی احاطے میں گھس جاتا ہے اور تمام ٹھکانوں کو ترتیب کے ساتھ تباہ کرتا ہے۔”

ایک سابق فوجی “ہوئے ٹران” اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ” ایک شیر بھیڑوں کے پورے ریوڑ کو تنہا کھا جاتا ہے۔”

یاد رہے بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے 19 ستمبر 2018 کو دعویٰ کیا تھا انکے جنگجوؤں نے 18 ستمبر کو شاہرگ کے علاقے مشدری میں پاکستانی فوجیوں کے ایک چوکی پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا ہے۔ بی ایل اے کے آفیشل میڈیا چینل “ہکل” نے 6 اکتوبر 2018 کو اس حملے کی ویڈیو جاری کی تھی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔