کابل اور واشنگٹن ماسکو مذاکرات میں شریک کیوں نہیں ہوں گے؟

88

جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگل مین یہ بتاتے ہیں کہ کابل اور واشنگٹن آئندہ ماہ ماسکو میں ہونے والے امن مذاکرات میں کیوں شرکت نہیں کر رہے اور اس کے نقصانات کیا ہوں گے؟

سوال طالبان کے ساتھ بار بار امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود امریکا اور افغانستان روسی قیادت میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کے خواہاں کیوں نہیں ہیں؟

مائیکل کوگل مین: دونوں ممالک ہی ماسکو مذاکرات میں شرکت نہ کر کے ایک بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ افغان حکومت کا فیصلہ خاص طور پر ناقابل یقین اور عجیب ہے۔ اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے لیے امریکا کے پاس تو ایک عذر ہے لیکن کابل تو سفارتی کشیدگی کو بطور عذر پیش نہیں کر سکتا۔

ماسکو کے ساتھ کابل کے تعلقات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ روس نے افغانستان میں اپنے کردار کو بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ حتمی بات یہ ہے کہ دونوں ممالک ہی غلط کر رہے ہیں۔ اگر آپ جنگ ختم کرنے اور امن عمل شروع کرنے کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو آپ کو ہر موقع کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ایسے مواقع پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ناقابل فہم ہے۔

 سوال : طالبان کی طرف سے ماسکو کانفرنس میں شرکت کیا اس طرف اشارہ ہے کہ روس کا طالبان عسکریت پسندوں پر اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے؟

مائیکل کوگل مین: جی ہاں، چین سے ازبکستان اور کئی دیگر ممالک کی طرح روس بھی ان ممالک میں شامل ہے، جو فائدہ اٹھانے کے لیے طالبان سے گہرے روابط قائم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میرے خیال سے یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ طالبان کو مذاکرات پر راضی کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ممالک کی کوششوں کی ضرورت ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ روابط کرنے والے زیادہ تر ممالک کے ارادے اور مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر ایران اور روس شاید سفارتی تعلقات کے علاوہ طالبان کو فوجی حمایت فراہم کرنے کے بھی خواہش مند ہوں۔

سوال : طالبان نمائندوں نے قطر میں امریکی نمائندوں سے ملاقات کی اور اب روسی حکام سے مل رہے ہیں۔ لیکن وہ افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کرتے۔ کیا اس طرح اشرف غنی حکومت کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے؟

مائیکل کوگل مین: جی ہاں، میرے خیال میں طالبان جلد ایسا کچھ کریں گے بھی نہیں کیوں کہ وہ افغان حکومت کو امریکا کی کٹھ پتلی حکومت سمجھتے ہیں۔ شاید یہ صورتحال آئندہ برس تبدیل ہو جائے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ صدارتی الیکشن نئی قیادت لے کر آئیں گے۔ یہ قیادت شاید انتخابات کا نتیجہ ہو نہ کہ امریکی مذاکرات کا، جیسا کہ امریکا نے افغان حکومت کے تشکیل کے لیے سن دو ہزار چودہ میں کیا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ طالبان آئندہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے راضی ہو جائیں۔

سوال : کیا حالیہ پیش رفتوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آخر کار افغانستان میں امن حاصل کیا جا سکتا ہے؟

مائیکل کوگل مین: جنگ شروع ہونے سے لے کر اب تک امن عمل کے لیے سب سے زیادہ کوششیں اب کی جا رہی ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ ہے کہ حال ہی میں طالبان پہلی مرتبہ عارضی جنگ بندی کے لیے متفق ہوئے تھے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ کچھ طالبان قوتیں امن کے حق میں ہیں چاہے یہ طویل عرصے کے لیے نہیں تھا۔ ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ کابل حکومت اور امریکا میں یہ طے پا گیا ہے کہ واشنگٹن طالبان سے براہ راست مذاکرات کر سکتا ہے۔ یہ طالبان کی ایک دیرینہ شرط تھی۔

ان دلائل کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ بہت جلد امن ہو جائے گا اور کسی بھی وقت حالات مستحکم ہو جائیں گے۔ ہم شاید ایک امن عمل شروع کرنے کے قریب ہیں لیکن اس کے اختتام تک ایک طویل راستہ ہے۔ آخر کار طالبان کے پاس لڑائی بند کرنے کا کوئی خاص جواز نہیں ہے کیوں کہ وہ میدان جنگ میں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ طالبان کو ہتھیار پھینکنے پر تیار کرنے کے لیے بہت بڑی پیش کش کرنا ہو گی۔

سوال یہ ہے کہ افغان، امریکی اور دیگر حصہ دار طالبان کو یہ رعایتیں دینے کے لیے تیار ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہو سکتا ہے کہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقے مستقل طور پر انہیں فراہم کر دیے جائیں۔

مائیکل کوگل مین امریکا میں ولسن سینٹر کے شعبہ جنوبی ایشیا کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔