عام انتخابات اور مسلح تنظیمیں – دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

177

عام انتخابات اور مسلح تنظیمیں

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

یاران دیار

گذشتہ ماہ سے پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح، شورش زدہ بلوچستان میں بھی الیکشن کی گہما گہمی چل رہی ہے، ایک جانب حکومت اور فورسز کی طرف سے الیکشن کی تیاریاں اور سیکیورٹی کے معاملات پر مکمل توجہ دیا جارہا ہے، تو دوسری جانب مسلح آزادی پسند تنظیمیں بھی کافی متحرک نظر آرہی ہیں، گذشتہ ادوار کی طرح اس بار بھی الیکشن کے قریب آتے ہی مسلح تنطیموں کی کاروائیوں میں شدت آرہی ہے۔ جس سے یہ امر بعید از گمان نہیں کہ وہ 2013 کے الیکشن کی طرح، موجودہ الیکشن بھی بلوچستان میں ناکام ہوجائے۔

گذشتہ تقریباۤ دو ہفتوں کے دوران، فورسز، انتخابی امیدواروں، پولنگ اسٹیشنز سمیت سرکاری انسٹالیشنز پر مسلح تنظیموں نے کئی حملے کئے ہیں۔ گذشتہ صرف 3 دنوں کے دوران سات سے زائد حملے ہوئے ہیں، جن میں پاکستانی فورسز کے متعدد اہلکاروں کے ہلاکت کا مسلح تنظیموں نے دعوی کیا ہے، جبکہ سرکاری ذرائع اب تک ان حملوں میں کم از کم دس اہلکاروں کے ہلاکت کی تصدیق کرچکے ہیں۔

گذشتہ روز 2 جولائی کو بلوچستان کے علاقے مشکے میں فورسز پر حملے کے نتیجے میں 6 اہلکاروں کے ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی، تاہم اس حملے کی ذمہ داری مسلح آزدی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کرلی تھی اور 8 اہلکاروں کے ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ سرکاری ذرائع کے مطابق تقریباۤ 6 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب کل کے ہی روز پنجگور میں فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے، بلوچ مسلح تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی نے 7 اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ سرکاری ذرائع کے مطابق 2 اہلکار ہلاک و 3 زخمی ہوئے تھے۔

مذید پڑھیئے

مشکے: مسلح افراد کے حملے میں 6 پاکستانی اہلکار ہلاک، حکومتی زرائع کی تصدیق

اس کے علاوہ 2 جولائی کو بلوچستان کے علاقے مچھ میں تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی پر بھی حملہ کیا گیا تھا، جس میں کمپنی اور اسکے سیکورٹی پر معمور فورسز کے جانی و مالی نقصانات کی اطلاع موصول ہوئی ہے، جبکہ اس حملے کی ذمہ داری ایک اور مسلح آزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کر لی ہے۔

مذید پڑھیئے

مچھ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں – بی ایل اے

مسلح تنظیموں کی جانب سے گذشتہ تقریباۤ دو ہفتوں کی کاروائیوں میں خاران میں نیشنل پارٹی کے امیدوار خیر جان اور تمپ میں بی این پی عوامی کے امیدوار اصغر رند پر بی ایل ایف کی جانب سے حملے، بی ایل اے کیجانب سے خضدار میں خفیہ اداروں کے لیئے کام کرنے والے شخص کی ہلاکت و خاران میں الیکشن کمیشن کے دفتر پر حملے، لشکر بلوچستان و بی آر اے کی جانب سے پنجگور میں ایف سی چوکی پر مشترکہ حملے، بی آر اے کی جانب سے ڈیرہ بگٹی کے علاقے زین کوہ میں پاکستانی فوج کی سربراہی میں تیل و گیس تلاش کرنے والی سرکاری کمپنی کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم حملے سمیت بی آر جی کی جانب سے نصیر آباد میں الیکشن امیدوار کے قافلے پر حملے شامل ہیں۔

یاد رہے کہ بلوچ آزادی پسند گذشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے، پولنگ اسٹیشنز، پولنگ آفیسروں سمیت الیکشن کے امیداواروں پر حملے کرتے رہے ہیں، یاد رہے کہ پچھلے انتخابات میں ایک حملے کے دوران بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ سردار ثناءاللہ زہری کا بیٹا، بھائی اور بھتیجا ہلاک ہو گئے، اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

21 جون کو اسپیشل سیکرٹری داخلہ رضوان ملک نے کہا تھا کہ عام انتخابات کے دوران امیدواروں پر مسلح گروپس کی جانب سے حملے ہوسکتے ہیں ۔

مذید پڑھیئے

انتخابی امیدواروں پر حملوں کا خطرہ ہے : سیکرٹری داخلہ

واضح رہے کہ پاکستانی الیکشنز کے خلاف تمام بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیموں کا موقف ایک ہی ہے اور اس معاملے پر وہ ایک دوسرے کی حمایت کرنے سمیت مشترکہ کاروائیاں بھی کرتے ہیں، جسکی مثال گذشتہ دنوں لشکر بلوچستان و بی آر اے، بی ایل ایف و بی ایل اے اور یو بی اے اور بی آر اے کی مشترکہ کاروائیاں ہیں۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں سرگرم مسلح تنظیموں نے پاکستانی انتخابات سے لوگوں کو دور رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی مقام پر حملے کرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ دو دہائیوں سے بالعموم لیکن گذشتہ انتخابات کے بعد سے ابتک بلوچستان میں روزانہ کے بنیاد پر آپریشن جاری رہے ہیں۔ جس غرض سے نیشنل ایکشن پلان اور ایپکس کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور اور حکومتِ بلوچستان کی طرف سے متعدد بار یہ میڈیا میں یہ دعویٰ منظر عام پر آتا رہا کہ انہوں نے بلوچ آزادی پسند مزاحمت کاروں کی کمر توڑ دی ہے، لیکن بلوچستان میں مزاحمتی تنظیموں کی کاروائیوں میں تیزی حکومتی دعووں کی تردید کرتی ہے۔