نواز عطاء: لاپتہ بلوچوں کی جدوجہد میں خود ہی لاپتہ ہوگئے: دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

224

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

بلوچستان میں فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ایک انتہائی سنجیدہ انسانی المیے کا شکل اختیار کرچکا ہے۔ غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بلوچستان سے پچیس ہزار سے زائد بلوچ فورسز کے ہاتھوں اغواء ہوکر گمشدگی کا شکار ہیں۔ ان لاپتہ افراد میں زیادہ تر بلوچ قوم پرست سیاسی کارکنان ہیں جن میں قوم پرست جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کے سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں۔

بلوچستان میں ان جبری گمشدگیوں کے بابت انسانی حقوق کے علمبردار عالمی ادارے اکثر سرد مہری کا مظاھرے کرتے آئے ہیں اور نا ہی اقوام متحدہ سمیت کسی بھی عالمی قوت کی جانب سے پاکستان پر اس بابت کوئی دباو ڈالا گیا ہے کہ وہ یہ سلسلہ بند کرے۔ انسانی حقوق کے بابت بلوچستان میں اسی خلاء کو پر کرنے کیلئے بلوچستان میں انسانی حقوق کے جدوجہد کیلئے مختلف تنظیمیں تشکیل دی گئیں، جن میں سرفہرست اور متحرک وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز جو لاپتہ افراد کے بازیابی کیلئے جدوجہد کررہا ہے اور بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ہے، جو بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کے بحالی کیلئے سرگرم عمل ہے۔

اب بلوچستان میں نیا المیہ یہ ہے کہ سیاسی کارکنان کے بعد اب انسانی حقوق کیلئے متحرک کارکنان بھی ریاستی بربریت کا شکار ہورہے ہیں۔ اسکی تازہ ترین مثال بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے انفارمیشن سیکریٹری نواز عطاء کا پانچ کمسن بچوں سمیت ایک درجن لوگوں کے ہمراہ فورسز کے ہاتھوں کراچی سے اغواء ہے و گمشدگی ہے۔ یاد رہے کہ نواز عطاء کی وابستگی محض بی ایچ آر او سے ہے اور وہ خود انٹرنیشنل ریلیشنز کا طالبعلم ہے۔ وہ بطور انفارمیشن سیکریٹری اور انسانی حقوق کے کارکن کے حیثیت سے بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کےپامالیوں کے خلاف جدوجہد کرتا آیا ہے اور خاص طور پر لاپتہ افراد کے بابت اپنی آواز بلند کرتا رہا ہے لیکن ستم ضریفی یہ ہے کہ لاپتہ افراد کے بازیابی کیلئے جدوجہد کرنے والا اب خود لاپتہ ہوچکا ہے۔

نواز عطاء کے جبری گمشدگی کے بابت گذشتہ دنوں بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ “کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں رات کے دو بجے کے درمیان بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے انفارمیشن سیکرٹری نواز عطاء بلوچ اور اس کے رشتہ داروں کے گھروں پر سیکیورٹی فورسز کے باوردی اورسادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے چھاپہ مار کر پانچ کمسن بچوں سمیت نواز کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا، خواتین کو شدید تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کردیا گیا۔گرفتار ہونے والوں میں نواز عطاء ولد عطا محمد، عابد ولد اشرف عمر 17سال، فرھاد ولد انور عمر 17سال، سجاد ولد یارجان عمر18سال،اُلفت ولد الطاف عمر 13سال شامل ہیں”

اسی بابت بی ایچ آر او نے اعلان بھی کیا ہے کہ وہ ملک گیر سخت ترین احتجاج کریں گے اور ساتھ ہی انہوں نے کراچی پریس کلب کے سامنے غیر معینہ مدت کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگادیا ہے اور گورنر ہاوس کے سامنے مظاھرہ کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

نواز عطاء کے جبری گمشدگی پر مختلف بلوچ قوم پرست سیاسی و مسلح جماعتوں کے سربراہان سمیت دوسرے کئی انسانی حقوق کے اداروں کے کارکنوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اسی بابت سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹوئیٹر پر نواز عطاء کے نام سے ہیش ٹیگ چلتی رہی۔ جہاں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چیئرپرسن کریمہ بلوچ نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” نواز عطاء لاپتہ افراد کیلئے جدوجہد کرتے ہوئے اب خود لاپت کردیا گیا۔

یاد رہے نواز عطاء اور دوسرے نوعمر بلوچوں کو اغواء کرنے کے دوران گھر میں موجود خواتین پر شدید تشدد کیا گیا۔ وہاں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ایک شہید رہنما کی بیوہ فرح بلوچ بھی موجود تھیں، جسے فورسز نے اٹھا کر تیسرے منزل سے نیچا گرادیا۔ جس میں انکی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ اسی حوالے سے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” نواز عطاء سمیت 9 کم عمر بلوچوں کو اغؤاء کیا گیا ہے اور فورسز نے ایک دوشیزہ فرح بلوچ کو تیسرے مرلے سے گراکر زخمی کیا ہے اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر اللہ نظر نے انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو ٹیگ کرکے کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیاسی کارکنان کے بعد اب جس طرح بلوچستان انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کیلئے بھی ایک نوگو ایریا بنایا جارہا ہے اور جس طرح بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر آواز بلند کرنے کو ممنوع بنایا گیا ہے، ظاھر کرتے ہیں کہ ریاستی فورسز بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کو روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور وہ اس سلسلے کو خفیہ طریقے سے چلائے رکھنے کیلئے اب ان کارکنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو انسانی حقوق کے پامالیوں کو اچھال کر میڈیا اور عالمی برادری کے سامنے عیاں کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here