خونی شاہراہ کے قہقہے – منظور بلوچ
خونی شاہراہ کے قہقہے
تحریر: منظور بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
درجان چلا گیا۔۔۔ ایسے گیا کہ نہ آنے کے لیئے۔۔۔ اب اس نے خاموشی کی چادر اوڑھ لی۔۔ اب اسکو اس بات...
کچھ الفاظ سفر خان کی تحریر کے جواب میں – سراج نور کہلکوری
کچھ الفاظ سفرخان کی تحریرکے جواب میں
تحریر: سراج نور کہلکوری
دی بلوچستان پوسٹ
میں نے ریڈیو زرمبش بلوچی کے متعلق کچھ تحریر کیا تھا، میں نےتحریر میں زبان کی اہمیت کے...
جنگی حکمتِ عملی | آخری قسط – جاسوسوں کا استعمال
دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ
مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا
آخری قسط – جاسوسوں کا استعمال
جب ایک لاکھ فوج بھرتی کرکے کسی...
میں تو درویش ہی کہونگا – نود شنز بلوچ
میں تو درویش ہی کہونگا
تحریر: نود شنز بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
تپتی ہوئی دھوپ ہو، شریانیں جما دینے والی سردی ہو، آندھی کا موسم ہو، بارش کا برسنا ہو، بادل کا...
سراج نور کے تحریر کے تناظر میں – سفرخان بلوچ
سراج نور کے تحریر کے تناظر میں
تحریر: سفرخان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
گذشتہ دنوں دی بلوچستان پوسٹ پہ سراج نور نامی لکھاری کا ایک تحریر پڑھنے کا موقع ملا، مذکورہ لکھاری...
بیوپاری جعلیا سرغنہ – میار بلوچ
بیوپاری جعلیا سرغنہ
تحریر: میار بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
رواں ماہ امریکہ نے اپنی بھرپور طاقت کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی القدس فورس کے جنرل قاسم سلیمانی کو عراقی سرزمین پر قتل...
سماجی و انقلابی روایات – برزکوہی
سماجی و انقلابی روایات
تحریر: برزکوہی
دی بلوچستان پوسٹ
روایات کسی بھی معاشرے کے وہ طے شدہ نمونے ہیں جن کی چند مخصوص خصوصیات اور علامات ہیں اور جو سال ہا سال...
سندھودیش تحریک بابت “انور ساجدی” کے ابہامات و الزامات کا جواب – معشوق قمبرانی
سندھودیش کی تحریک بابت ’انور ساجدی‘کے ابہامات و الزامات کا جواب
تحریر : معشوق قمبرانی
دی بلوچستان پوسٹ
آجکل یوں تو بہت سارے مسئلے مسائل پر بحث مباحثے ہوتے رہتے ہیں، ان...
جنگی حکمتِ عملی | قسط 33 – آگ سے حملہ
دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ
مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا
قسط 33 – آگ سے حملہ
آگ سے حملے کی پانچ قسمیں ہیں‘...
شکریہ اختر مینگل اور حقائق – مراد بلوچ
شکریہ اختر مینگل اور حقائق
تحریر: مراد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ ریاستی عقوبت خانوں سے ١٥ تا ٢٠ لاپتہ بلوچ فرزند بازیاب ہوئے ہیں- سب...
























































