کیا پاکستان سے الحاق کے وقت بلوچ مسلمانوں کے تحفظات غلط تھے؟
تحریر: مولانا سعد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آنے والے سالوں اور دہائیوں نے یہ بات ثابت کر دی کہ بلوچ مسلمانوں کے یہ تحفظات بے بنیاد نہ تھے۔ ان کے لیے نہ شریعت کا نفاذ ہوا، نہ ہی بلوچ علاقوں کو ان کے جائز شرعی حقوق دیے گئے۔ بلوچستان کے علاقے سونے، گیس اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود پاکستان کو قدرتی وسائل فراہم کرتے رہے، مگر آج تک ان وسائل سے ایک دو کلومیٹر کے فاصلے پر موجود آبادیوں کو بھی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہوئیں۔
قلات کا بلوچستان میں داخلہ ہوا تو 1948ء میں، مگر اس کے بعد تقریباً 53 سال گزر جانے کے باوجود بھی وہی حالات قائم رہے جن سے بچنے کے لیے بلوچ مسلمانوں نے پاکستان میں شامل ہونے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان کا موقف شرعاً اور منطق ہر دو اعتبار سے درست تھا۔ نہ صرف ان کا سیاسی استحصال ہوا بلکہ ان میں قوم پرستی کو بھی ہوا دی گئی۔
ہم ادھر خان قلات کی وہ تقریر آج بھی یاد کرتے ہیں جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دین، عدل، ایمان اور تقویٰ کو معیار نہ بنایا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔ یہ بات آج ایک حقیقت بن چکی ہے کہ جب اس قوم کو مسلسل دیوار سے لگایا گیا اور ریاستی سطح پر بھی اس ظلم پر خاموشی اختیار کی گئی تو اس کے اندر ردِعمل پیدا ہوا۔
ابتدا میں یہ ردِعمل اسلام کی طرف پلٹنے کی بجائے ’’قومی تحریک‘‘ اور ’’سیکولرازم‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوا، کیونکہ بلوچستان کے آغاز میں یہی نظریات عام تھے۔ آج بھی کچھ لوگ اسی راستے پر ہیں، مگر اس کے باوجود بلوچ قوم کی غالب اکثریت اسلام سے محبت رکھتی ہے اور اسلامی نظام اور نفاذِ شریعت کی تائید کرتی ہے۔
اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے افغانستان میں امارتِ اسلامیہ کے قیام کی جدوجہد میں بلوچ نوجوانوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
بلوچ مسلمان اور قیامِ پاکستان
ریاستِ قلات (موجودہ بلوچستان کا بیشتر حصہ) گیارہ اگست 1947ء کو برِّصغیر کی راج سے آزاد ہو گئی، لیکن خانِ قلات نے 13 اگست کو پاکستان سے الحاق نہیں کیا، کیونکہ بلوچ قیادت کے درمیان اس مسئلے پر اختلافات تھے۔
لیکن کچھ جماعتیں اور این جی اوز صورتِ حال کی حقیقت کو چھپاتی رہیں، دوسری طرف حکومتِ پاکستان، بلوچ قیادت پر مسلسل دباؤ بڑھاتی رہی کہ وہ بلا تاخیر پاکستان سے الحاق کریں۔ بلوچ مسلمان یہ دیکھ رہے تھے کہ انگریز سے آزادی ملتے ہی اپنے ادارے اختیار میں نافذ شریعت کی کوشش شروع کر دی تھی، لیکن پاکستان میں اس سمت کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی تھی۔ اس لیے بلوچ مسلمانوں کی اکثریت اس حال میں تھی کہ اگر خالص شرعی نظام مطلوب ہے تو پھر پاکستان میں باقاعدہ ضم ہونے کے بجائے اس سے ایک دوستانہ معاہدہ کر کے اچھے تعلقات رکھے جائیں، ورنہ نفاذِ شریعت کا خواب شاید پورا نہ ہو سکے۔
اس مرحلے پر نوازشاتِ پاکستان کے لیے بلوچ مسلمانوں کے جذبات کیا تھے، اس کا اندازہ قائد کے دارالعلوم کے رکن، مولوی محمد عمر پڑنگ آبادی درانی رحمه الله کی اس بات سے کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے 13 ستمبر 1947ء کو دارالعلوم میں خطاب کے دوران کہی۔ آپ ان جملوں سے بلوچوں کا خلوص و محبت صاف دیکھ سکتے ہیں:
“پاکستان جب بھی ہمیں آزاد کرے گا تو ہم اپنی وفاداری بندوق کے کران کی امداد اور جاودوں سے کریں گے…… اگر پاکستان ہماری مدد کی ضرورت ہے تو ہم موجود اور جو جو ہمارے ملک کی پیداواری اجناس ہیں بطور تحفہ پیش کریں گے۔”
نیز خانِ قلات نے بھی 15 اگست 1947ء کو اپنے خطبۂ جمعہ کے اختتام پر کہا: “ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس احسان عظیم کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ آج ہندوستان میں ایک ایسی آزاد خود مختار سلطنت وجود میں آئی ہے جو بنگال سے بلوچستان اور آبادی دنیا میں پانچویں درجے کی ہے اور اسلامی دنیا میں اول درجے کی سلطنت ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس سلطنت کی سرحد قلات سے ملتی ہے، ہم اس سلطنتِ خدا داد اور پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لیے بارگاہِ ایزدی میں دست بدعا ہیں۔”
لیکن ان ستتر سالوں میں پاکستان نے جو بھی همارے قوم وملت کے ساتھ کیا وه بھی دنیا کے سامنے ہے … تنہا بلوچ قوم کے ساتھ نہیں بلکہ پشتونوں کے ساتھ اور ہر اس قوم کے ساتھ جس نے اپنے حقوق مانگے … یہاں تک کہ علماء اکرام کو بھی نہ بخشا جن میں مفتی نظام الدین شامزئی رحمه الله سر فہرست ہے۔
بلوچ مسلمان کو کس قسم کی آزادی مطلوب تھی؟
قیام پاکستان کے وقت بلوچستان کے بیشتر مسلمانوں نے بھی مسلم لیگ کی جدوجہد کو ایک اسلامی جدوجہد سمجھا اور اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ مسلم لیگ کی قیادت اکثر بلوچستان آئی اور وہاں کے مسلمانوں سے اپنے مقاصد کے لیے کھڑے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت سمجھ کر اس کا بھرپور استقبال کرتے اور اپنے اموال وغیرہ سے اس کی نصرت بھی کرتے تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود، بلوچ قوم کو یہ خدشہ تھا کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا سب سے مضبوط ادارہ وہی فرقہ کی تربیت یافتہ فوج یا ادارہ ہوگا جس کی بدولت گزشتہ ایک صدی کے دوران اگر بڑے حکمران بلوچ مسلمانوں کا لہو بہا رہے تھے، جبکہ بلوچ مسلمانوں کو بعض فرقہ کی آزادی نہیں مطلوب تھی بلکہ وہ اس کے قائم کردہ کفری نظام سے بھی آزادی چاہتے تھے اور ایک حقیقی اسلامی سرزمین کی تلاش میں تھے جہاں فرقہ کے چھوڑے ہوئے نظام کی بجائے شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نافذ ہو۔
بلوچ قوم کی اسی دیانتداری کی نمائندگی کرتے ہوئے خان قلات میر احمد خان نے 15 اگست 1947 کو اپنے خطاب میں آزادی کے موقع پر کہا: “ہماری سلطنت کی آج صورتحال نہیں جو چند روز پیش تھی۔ کل ہم غلام تھے، ہماری کوئی آواز اور یا رائے نہیں تھی۔ ہمیں مجبور کرنا اور حکومت کی پالیسی پر چلنا نہایت ضروری تھا، ہم سے بلاواسطہ خاموشی تھا۔ مگر اللہ کے فضل سے آج صرف ششنگاہ حقیقی ہمارا بادشاہ ہے اور ہم اپنے اقوال و افعال کا جواب صرف اللہ کی ذات کے سامنے ہوں۔ وہ مسلمان کی صورت میں مسلمانوں کو قابو میں رکھنے کا حق نہیں رکھتا۔ جو خود آزمند و مداخلت کے سوا کسی سے خوف نہیں۔ الحمد للہ میں مسلمان ہوں اور اپنے خلاف کے سوا کسی طاقت سے نہیں ڈرتا۔ لہذا میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ آج کے بعد میں اپنے عمل یا حکومت کے کسی قسم کے ظلم یا عدل غیر شرعی اقدام کو برداشت نہیں کروں گا۔
میں اپنی پیاری بلوچ قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ آؤ ہم سب مل کر خداوند کریم کی مدد سے شریعتِ محمدی اور بلوچوں کی ایک جماعت کیلے اپنی کوشش جاری رکھیں۔ اگر آپ اس امر کے خواہش مند ہیں کہ ترقی اور خوشحالی آپ کے قدم چومے تو یاد رکھیں کہ آپ اپنی سابقہ روایات کے مطابق شریعتِ اسلامی اور احکامِ الٰہی پر چلنا چاہتے ہیں اور اسی میں فلاح و کامیابی ہے۔ میں اپنی قوم پر یقین دلاتا ہوں کہ اسلامی قوانین اور بلوچ روایات کے مطابق ہم سب خدا کے بندے ہیں اور ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ بنی نوع انسان اولاد آدم سے ہے اور آدم علیہ السلام و اللہ تعالیٰ نے خاک سے پیدا کیا تھا۔ لہذا کسی فرد کو کسی دوسرے پر تفوق اور پرچیز کاری کے سوا کوئی برتری نہیں۔ خان سے لے کر زمین دار، مزدور اور چوپاہے تک انسان اور مسلمان ہونے میں سب برابر ہیں۔ ہمارے سلف صالحین نے کبھی اپنے بادشاہ کو بادشاہ یا شہنشاہ نہیں کہا۔ اسلام میں بادشاہی اور تاج نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین نے اپنے آپ کو کبھی بادشاہ نہیں کہا، نہ ہی تاج پہنا اور نہ ہی لوگوں کے ساتھ کھل کر برتاؤ کیا۔ ان شاء اللہ ہم ان روایات کو قائم رکھنے اور قدم قدم پر چلنے کی کوشش کریں گے۔
اسی طرح 13 ستمبر 1932ء کو قلات کے دارالعوام میں پاکستان سے الحاق کے مسئلے پر بحث کے دوران معروف بلوچ سیاسی رہنما، غوث بخش بزنجو نے کہا: “بہت غور و فکر اور تاریخ کے وسیع مطالعے کے بعد مجھے اس مردِ بہرہ، یعنی بلوچ قوم، کے علاج اور شفایابی کے لیے ایک ہی مؤثر و تجربہ شدہ نسخہ نظر آتا ہے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ اس مردِ بہرہ کے لیے دنیا میں اس سے بہتر علاج کوئی نہیں۔ یہ نسخہ اسلام کے مقدس اصولوں پر عمل کرنا ہے۔ جنہوں نے رحمتِ باری تعالیٰ کے کلام پاک کی صورت میں جمع کی گئی نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی فرمائی، وہ دنیا کی قوموں میں سب سے پہلے عرب قوم نے اختیار کی۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رہبری میں اس تعلیم پر عمل شروع کیا اور اسلام لانے سے پیشتر وہ جن قوموں میں مشکلات، قومی زلت اور گمراہیوں میں مبتلا تھے، اس مقدس کتاب پر عمل کرنے کی برکت سے بہت تھوڑی مدت میں ان کی زحمت و رنجت سے نجات مل گئی۔ یہی قوم دنیا کی بہترین اور مہذب ترین قوم بن گئی اور دیگر اقوام عالم کی راہنمائی کرنے لائق ہوئی۔
جب تک دنیا میں اہلِ اسلام صحیح معنوں میں احکامِ الٰہی کے اس مقدس دستور پر عمل کرتے رہیں گے تو اقبال و کامل دین نے ہمیشہ ان قدم چومے، اس کے بر عکس جس دن مسلمان قوم نے احکامِ الٰہی کی تعمیل میں سلطنت اختیار کرنے کے خلاف شروع اور اپنی خواہشات نفس کی اطاعت شروع کی، اسی دن سے تباہی اور زوال شروع ہوا۔ انہوں نے ان قیمتی اصولوں کو ترک کیا اور قرآن پاک اور اپنا مقدس دستور عمل بنایا۔
چنانچہ اسی خواہش و عملی جہد کے نتیجے میں 13 ستمبر 1932ء، سرداروں، قلات کے دارالعوام اور شرعی عدالت کے قیام کا حکم جاری کیا گیا اور اس کے ہر مقصد کی تفصیل کی سطح پر ایک علاقے میں قاضی مقرر کر دیا گیا۔ حکم نامے میں کہا گیا:
“آئندہ تمام مقدمات، خواہ وہ سرداروں کے درمیان ہوں یا عام عوام سے تعلق رکھتے ہوں، ان کے فیصلے بلا امتیاز امیر و مغریب، گنھگار هو یا نیک، زیرِ شریعت مطمئن ہو کر ہوں گے۔ اس عمل میں کسی کا لحاظ نهیں کیا جائے۔ عدالت یا متعلقہ کار فرما وہ ہو گا کہ وہ موجب فرمان مکمل طور پر عمل کروائے اور اس سلسلے میں کسی قسم کے غفلت یا سہولت نہ کرے۔”
حواله از بلوچستان اور پاکستان، الحاق کی کہانی، مرتب: ڈاکٹر عبد الرحمن براہوی، ص: 195۔
13 ارتکاب: بلوچستان اور پاکستان، الحاق کی کہانی، مرتب: ڈاکٹر عبد الرحمن براہوی، ص: 198۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































