سوراب: جبری گمشدگی کے بعد دو کسانوں کا ماورائے عدالت قتل، تشدد زدہ لاشیں برآمد

54

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ سوراب سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ کسان تیمور ولد امام بخش کو 9 فروری 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ کئی روز تک حراست میں رکھنے کے بعد ان کی لاش پھینک دی گئی۔ ان کے جسم پر شدید تشدد کے واضح آثار موجود تھے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جب کسی کو جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے تو خاندانوں کو صرف گمشدگی ہی نہیں بلکہ غیر انسانی سلوک کا بھی خوف ہوتا ہے۔ متعدد ایسے واقعات میں متاثرین کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جسم پر ڈرل جیسے نشانات اور بدترین جسمانی تشدد کے آثار طویل حراستی اذیت کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے بعد انہیں قتل کر کے لاشیں ویران مقامات پر پھینک دی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ موت کے بعد بھی وقار سے محروم رکھا جاتا ہے اور لاشیں اہل خانہ کے حوالے کرنے کے بجائے کھلے مقامات پر پھینک دی جاتی ہیں۔

تیمور ایک محنت کش کسان تھے جو محنت مزدوری سے اپنا روزگار کماتے تھے، اور ان کا مقدمہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کو بھی جمع کروایا گیا تھا۔ اس کے باوجود انہیں ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ ایسے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جن میں شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (ICCPR) کا آرٹیکل 6 (حقِ زندگی) اور آرٹیکل 7 (تشدد کی ممانعت) شامل ہیں، نیز تشدد کے خلاف کنونشن (CAT) جو ہر حالت میں تشدد کو سختی سے ممنوع قرار دیتا ہے۔

اسی طرح 9 فروری 2026 کو شام تقریباً پانچ بجے سوراب سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ کسان مرتضیٰ ولد یحییٰ کو مین آر سی ڈی روڈ سوراب پر واقع مال ایف سی چوکّی سے فرنٹیئر کور کی جانب سے حراست میں لیا گیا۔ انہیں کسی عدالتی حکم کے بغیر، کسی الزام سے آگاہ کیے بغیر اور کسی عدالت یا قانونی اتھارٹی کے سامنے پیش کیے بغیر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ اس لمحے سے ان کے خاندان کو ان کی جگہ یا حالت کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔ وہ مکمل طور پر قانون کی نظر سے اوجھل اور اہل خانہ کی رسائی سے باہر حراست میں رہے۔

مرتضیٰ کی لاش برآمد ہونے سے قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان کا کیس اقوام متحدہ کے جبری یا غیر ارادی گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ کو جمع کروایا تھا، تاکہ حکومتِ پاکستان سے ان کی قسمت اور مقام کے بارے میں فوری وضاحت کا مطالبہ کیا جا سکے۔

20 فروری 2026 کو، حراست میں لیے جانے کے گیارہ دن بعد، مرتضیٰ کی لاش برآمد ہوئی۔ ان کے جسم پر شدید جسمانی تشدد کے نمایاں نشانات تھے، جو بلوچستان میں جبری گمشدگی کے دیگر متعدد واقعات سے مماثلت رکھتے ہیں، جہاں متاثرین کو حراست میں دیے گئے تشدد کے شواہد کے ساتھ واپس کیا جاتا ہے۔ جبری گمشدگی کے بعد تشدد اور قتل حقِ زندگی، تشدد کی ممانعت اور جبری گمشدگی کی مکمل پابندی جیسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی متعلقہ ریاستی اداروں کو مرتضیٰ کی ماروائے عدالت قتل کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہراتی ہے اور اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور مکمل، آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ انصاف کسی سیاسی مصلحت کا معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک ذمہ داری ہے۔ جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور احتساب کے حصول تک ہر دستیاب قانونی اور وکالتی راستہ اختیار کیا جاتا رہے گا