جب تک ریاست کے حق میں ریلی نہیں نکالی جاتی، کرفیو نافذ رہے گا – پاکستانی فورسز کی نوشکی کے رہائشیوں کو تنبیہ

96

نوشکی میں رواں ماہ 6 فروری سے نافذ ریاستی کرفیو تاحال برقرار ہے، جبکہ دکانیں اور شاہراہیں شام 6 بجے کے بعد بند رکھنے کا حکم برقرار ہے۔

نوشکی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری کرفیو بدستور نافذ ہے، جہاں دکانیں اور بازار شام 6 بجے کے بعد بند رکھنے کے ساتھ ساتھ شہر کی شاہراہیں، بشمول نوشکی سے کوئٹہ و دیگر شہروں کو جانے والی مرکزی سڑکیں بھی بند رکھی گئی ہیں۔

کرفیو کے باعث نوشکی شہر میں شام 6 بجے کے بعد داخل ہونے اور گھروں سے باہر نکلنے پر مکمل پابندی عائد ہے، جبکہ شہر کے مختلف مقامات پر پاکستانی فورسز اہلکار بڑی تعداد میں تعینات ہیں۔

شہریوں کے مطابق پاکستانی فورسز حکام نے شہریوں کو تنبیہ کی ہے کہ جب تک وہ ریاست کے حق میں ریلی کا اہتمام نہیں کرتے اور اپنے مکانوں و دکانوں پر پاکستانی جھنڈا نہیں لگاتے، کرفیو نہیں ہٹایا جائے گا۔

ایک شہری کے مطابق کرفیو کے باعث لوگوں کو نوشکی سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں، جبکہ اسپتال جانے والے راستوں پر بھی فورسز اہلکار تعینات ہیں، اس صورتِ حال کے باعث گزشتہ روز ایک حاملہ خاتون کو شدید تشویشناک حالت کے باوجود اسپتال جانے سے روک دیا گیا۔

اسی طرح مقامی صحافیوں کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ نوشکی سے متعلق ریاستی مؤقف کی تائید کریں، بصورتِ دیگر انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

یاد رہے کہ رواں مہینے بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے آپریشن ’’ھیروف‘‘ کے تحت حملوں کے دوران چھ روز تک نوشکی شہر پر کنٹرول کیے رکھا تھا، جبکہ چھ روز بعد بی ایل اے نے اپنے آپریشن کے اختتام کا اعلان کیا تھا۔

بی ایل اے نے اس دوران نوشکی میں پاکستانی فورسز کے کیمپ اور آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کو خودکش اور دیگر حملوں میں نشانہ بنایا تھا، جن میں درجنوں پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل زہری میں بلوچ سرمچاروں کے ایک ماہ تک شہر پر قبضے کے بعد پاکستانی فورسز کے داخل ہونے پر کئی ہفتوں تک کرفیو نافذ کیا گیا تھا، کرفیو کے دوران شہریوں کو اسپتال تک رسائی محدود کرنے کے باعث ایک حاملہ خاتون جانبحق ہوگئی تھی۔