کراچی، کوئٹہ مزید دو نوجوان جبری گمشدگی کا شکار

0

پاکستانی فورسز نے دو افراد کو حراست بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

کراچی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز رینجرز نے گزشتہ سال 29 دسمبر کو گولی مار ریکسار سے 26 سالہ محمد ولد مالک کو حراست میں لے کر اپنے ہمراہ منتقل کیا، جس کے بعد سے وہ تاحال منظرِ عام پر نہیں آسکے ہیں۔

محمد مالک کی جبری گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات ان کے لواحقین نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو فراہم کی ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز سے متعدد بلوچ طلباء، شہری، اساتذہ اور بلوچستان سے آنے والے باشندے کراچی میں جبری گمشدگی کا نشانہ بن رہے ہیں، جبکہ کئی افراد کو مختلف کیسز میں گرفتاری ظاہر کرنے اور مبینہ جعلی مقابلوں میں قتل کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

گزشتہ روز کراچی میں سی ٹی ڈی نے ایک مبینہ مقابلے میں زیرِ حراست حمدان بلوچ، جلیل ولد محمد نور اور نیاز ولد قادر بخش سمیت چار افراد کو قتل کردیا تھا، جنہیں دسمبر کے آخر اور رواں سال کے دوران جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

گزشتہ سال 28 دسمبر کو کراچی کے بلوچ اکثریتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن اور گرفتاریوں کے بعد اب تک درجنوں افراد جبری گمشدگی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ان میں 17 سالہ طالب علم امیر ولد جاسم ولی داد ساکن بلوچ آباد مند بھی شامل ہیں، جنہیں 19 دسمبر 2025 کو شام تقریباً 6 بجے کراچی کے علاقے لیاری آٹھ چوک سے ایم آئی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

اسی طرح بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم ذاکر نور کو 30 دسمبر 2025 کو کراچی میں پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا، جبکہ رواں سال 3 جنوری 2026 کو 30 سالہ ولید ولد عبدالمجید سکنہ لیاری کو ان کے گھر سے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

مزید برآں رواں سال کراچی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والوں میں بلوچ استاد زاہد بھی شامل ہیں، جنہیں 27 جنوری کو ان کے گھر سے اغوا کیا گیا، تاہم بعد ازاں ان کی گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے ان پر متعدد کیسز قائم کیے گئے۔

کراچی سے رواں سال جبری لاپتہ ہونے والوں میں 2 فروری کو 25 سالہ یاسر عرفات ولد قادر بخش (ساکن مشکے)، 7 فروری کو کراچی فقیر کالونی کے رہائشی میر بالاچ ولد غلام جان، 16 فروری کو تین نوجوان دانیال ناصر ولد عبدالناصر، محمد اقبال ولد خالق داد اور ارشاد علی ساکنہ جعفر آباد اور 18 فروری کو لیاری کے علاقے کلری سے تعلق رکھنے والے نوجوان کاشف بلوچ شامل ہیں، جنہیں پاکستانی فورسز نے گھروں اور دیگر مقامات سے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

اسی طرح کوئٹہ سے اطلاعات کے مطابق 17 فروری کے شب پاکستانی فورسز نے لوکاریز کے علاقے میں چھاپہ مارتے ہوئے رازق جتک نامی شخص کو اپنے ہمراہ لے گئے ہیں جس کے بعد سے وہ جبری لاپتہ ہیں۔

کراچی کے طرح کوئٹہ و بلوچستان کے مختلف اضلاع سے درجنوں جبری گمشدگیوں کے رپورٹس موصول ہورہے ہیں جن پر بلوچ تنظیمیں اور انسانی حقوق کے اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔