جھاؤ، خاران اور گوادر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل ایف

38

 
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے آٹھ فروری کو جھاؤ میں آواران لسبیلہ شاہراہ پر پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو اُس وقت نشانہ بنایا جب وہ ایک آئی ای ڈی بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش کررہے تھے۔ بم دھماکے کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔
 
ترجمان نے کہاکہ ایک اور کارروائی میں بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 18 فروری کو خاران شہر کے جنوبی بائی پاس کے قریب قائم فورسز کی چیک پوسٹ کو گرینیڈ لانچر اور دیگر خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
 
انہوں نے کہاکہ ایک اور کارروائی میں 15 فروری کو  سرمچاروں نے موصولہ انٹیلیجنس اطلاع کی بنیاد پر گوادر کے علاقے پیشکان میں کارروائی کرتے ہوئے قابض فوج اور ملٹری انٹیلیجنس کے آلہ کار، اکمل ولد نصیر، سکنہ فیصل آباد، پنجاب کو ہلاک کر دیا۔
 
مزید کہاکہ مذکورہ آلہ کار بھیس بدل کر قابض فوج کی معاونت کرتا رہا اور سیاسی نوجوانوں کی نشاندہی، علاقوں میں سرمچاروں کی سرگرمیوں اور دیگر حساس معلومات دشمن فوج کو فراہم کرتا رہا۔ تنظیم کی انٹیلیجنس ٹیم کئی دنوں تک اس کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی۔ جب یہ قابض فوج کے ساتھ ملوث پایا گیا، تو سرمچاروں نے اسے نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔
 
آخر میں کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ جھاؤ، خاران اور گوادر حملوں میں دو پاکستانی فوجی اہلکاروں اور ایک ملیٹری انٹیلجنس ایجنٹ کے ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔