کراچی کی مقامی عدالت میں سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلے میں جانبحق ہونے والے زیر حراست نوجوان حمدان بلوچ کے کیس کی سماعت ہوئی۔ سی ٹی ڈی نے پوسٹ مارٹم رپورٹ جمع کرائی، تاہم لواحقین نے اس یکطرفہ پوسٹ مارٹم کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایک غیر جانبدار اور شفاف پوسٹ مارٹم کیا جائے، جو فیملی کی موجودگی میں مکمل ہو، تاکہ یہ حقیقت سامنے آئے کہ حمدان پر کس بے دردی سے مظالم ڈھائے گئے اور اسے ہم سے کیسے چھینا گیا۔
بی وائ سی کراچی نے کہا کہ ہم اس کٹھن اور دردناک گھڑی میں بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ شہید حمدان کے لواحقین کا ساتھ دیں۔ خاموشی ظلم کی سب سے بڑی طاقت ہے، اس خاموشی کو توڑیں۔ اس بوڑھی ماں کے ساتھ کھڑے ہوں جو رمضان شریف جیسے بابرکت مہینے میں بھی اپنے بیٹے کی لاش اور انصاف کے لیے وقتِ فرعون کا سامنا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر، غیرت اور مستقبل کا سوال ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہیں تو کل ہر گھر کی دہلیز اسی درد سے لرز سکتی ہے۔
خیال رہے کہ حمدان بلوچ، جو گولیمار کا رہائشی اور ایک طالب علم تھا، 29 دسمبر 2025 کو دھوبی گھاٹ پل کے قریب سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ بعد ازاں 6 جنوری 2026 کو سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا کہ حمدان کو رئیس گوٹھ سے ایک مسلح تنظیم کے ساتھ تعلق اور سہولت کاری کے شبے میں گرفتار کیا گیا، لیکن اہل خانہ نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھوبی گھاٹ سے تحویل میں لیا گیا اور دہشت گردی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
بعد ازاں انہیں دو روز قبل دیگر دو زیر حراست افراد کے ساتھ ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔















































