بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے شعبۂ انسانی حقوق پانک نے جنوری 2026 کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سال 2026 کا آغاز بھی بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے ہوا۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع سمیت کراچی (سندھ) میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے متعدد واقعات پیش آئے۔ مجموعی طور پر 82 افراد کی جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 44 افراد کو شدید ذہنی و جسمانی تشدد کے بعد رہا کیا گیا۔ اسی عرصے میں ماورائے عدالت قتل کے 12 مصدقہ واقعات سامنے آئے، جس سے بلوچستان میں خوف اور بے یقینی کی فضا مزید گہری ہوئی۔
ماورائے عدالت قتل ہونے والوں میں محمد انور، راھی عصا، ایاز (ولد دوست محمد)، ظریف (ولد فقیر محمد)، ظریف (ولد محمد یعقوب)، بالاچ (ولد حامد)، زوہیب احمد، ملا رزاق، عبدالمطلب، نعمان حیدر، طاہر بلوچ اور ملنگ (ولد زاھد ندیم) شامل ہیں۔ محمد انور، سکنہ کلی سفر علی، ضلع دوکی، کو جون 2025 میں حراست میں لیا گیا تھا اور جنوری 2026 میں ان کی لاش دوکی سے برآمد ہوئی۔ کمسن راھی عصا کو ھوشاپ بازار میں دن دہاڑے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔ ایاز، سکنہ گیشکور (آواران) اور ظریف ولد فقیر محمد، سکنہ سیاہ کل، مالار (آواران) کی گولیوں سے چھلنی لاشیں آواران کے علاقے نوندڑہ سے برآمد ہوئیں۔ بالاچ، سکنہ تسپ (پنجگور) کو تسپ بازار میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔ ظریف ولد محمد یعقوب، سکنہ ریک چاھی، کولواہ (آواران) کو اغوا کے دو گھنٹے بعد قتل کر دیا گیا۔ زوہیب احمد کو پنجگور میں اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ ملا رزاق، سکنہ نوانو زامران، کی لاش سیمسوری کور (ندی) سے برآمد ہوئی۔ عبدالمطلب، سکنہ کلی کمالو، سریاب (شال)، کو 11 جولائی 2025 کو گھر سے حراست میں لیا گیا اور 19 جنوری 2026 کو دشت مستونگ میں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا۔ نعمان حیدر کو 19 نومبر 2025 کو مند (کیچ) سے حراست میں لیا گیا اور 21 جنوری 2026 کو ان کی لاش تمپ میں ملی۔ 21 سالہ مزدور طاہر بلوچ کو 21 جنوری 2026 کو کوشکلات، تمپ میں گولی مار کر قتل کیا گیا، جبکہ 20 سالہ ملنگ ولد زاہد ندیم کو حراست کے بعد جبری لاپتہ کیا گیا اور بعد ازاں ان کی لاش برآمد ہوئی۔
ضلعی اعداد و شمار کے مطابق کیچ میں 26، شال میں 16، گوادر میں 15، خاران میں 9، پنجگور میں 6، خضدار میں 4، لسبیلہ میں 2، کراچی میں 2 جبکہ ڈیرہ بگٹی اور نوشکے میں ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا۔ متعدد واقعات میں گھروں پر چھاپوں، بغیر وارنٹ گرفتاریوں اور نامعلوم مقامات پر حراست میں رکھ کر تشدد کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
پانک کے مطابق یہ صورتحال بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی حالت کی عکاس ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے تسلسل نے ایک غیر تحریری قانون کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے خاتمے کے لیے شفاف اور خودمختار تحقیقات، ذمہ داران کا تعین اور مؤثر احتساب ناگزیر ہے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور بلوچستان میں قانون کی بالادستی یقینی بنائی جا سکے۔















































