اماں حوری کا درد – ٹی بی پی اداریہ

35

اماں حوری کا درد

ٹی بی پی اداریہ

اماں حوری کی ساری زندگی ریاستی جبر کے سائے تلے گزری ہے۔ اماں حوری اور ان کا خانوادہ ان ہزاروں بلوچ مہاجرین میں شامل تھا جو 1973/77 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں بلوچستان کے علاقے کوہلو، کاہان اور سبی میں خونی فوجی آپریشن کے دوران ریاستی جبر کے سبب اپنے علاقوں سے مہاجرت کرکے افغانستان میں کئی سالوں تک جلاوطن رہے تھے۔ اماں حوری کا خانوادہ اور مری قبیلہ پاکستان میں ضیا الحق کے فوجی آمریت کے بعد انیس سو نوے کے عشرے میں بلوچستان واپس آئے اور کوئٹہ میں کوہ چلتن کے دامن میں نیو کاہان کو آباد کیا اور وہاں رہائش پذیر ہوئے۔

اکیسویں صدی میں بلوچ انسرجنسی کے آغاز سے ہی نیو کاہان کے رہائشی ریاستی عتاب کا شکار ہیں۔ بلوچ قائد خیر بخش مری کی گرفتاری کے ساتھ 11 جنوری دو ہزار کو نیو کاہان سے ایک سو پچاس سے زائد رہائشیوں کو بھی گرفتار اور جبری گمشدہ کیا گیا۔ دو دہائی سے زائد گزرنے کے بعد بھی نیو کاہان کے رہائشی جبری علاقہ بدری، اجتماعی سزا، ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور حراستی قتل کا سامنا کر رہے ہیں۔

اماں حوری کی زندگی جبری علاقہ بدری، ریاستی جبر کو سہنے اور جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد سے عبارت ہے۔ انصاف کی متلاشی اماں حوری اپنے بڑھاپے کے سہارے کی بازیابی کے لیے ریاستی ایوانوں پر دستک دیتے رہے اور اپنے بیٹے کی بازیابی کی امید اور انتظار میں ناقابل تصور تکلیف برداشت کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ تاہم، جبری گمشدگیوں کے خلاف اس کی ضعیف آواز تاریخ کا ناقابل فراموش حصہ بن چکا ہے۔

بلوچستان سے ہزاروں جبری گمشدگان میں اماں حوری کا بیٹا گل محمد مری بھی شامل ہیں، جنہیں دو ہزار بارہ کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ بیٹے کی بازیابی کے لیے اماں حوری اسی (80) سال کی عمر میں بھی پاکستان کے مرکز اسلام آباد میں دھرنے اور کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی تحریک میں متحرک رہی ہیں۔ بلوچستان میں ہزاروں مائیں اپنے بیٹوں کی بازیابی کی جدوجہد کا بار سنبھالے ہوئے ہیں اور ریاست بلوچ ماؤں کی تکلیف کو بڑھانے کے لیے جبری گمشدگیوں کی حقیقت سے ہی انکاری ہے۔

بلوچستان میں سینکڑوں مائیں ریاستی جبر اور اجتماعی سزا کی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہیں اور اماں حوری جیسی ماؤں کی ہمت سے یہ جدوجہد جاری ہے۔ اماں حوری اپنے بیٹے کا کئی سال انتظار کرکے، اس کی جبری گمشدگی کا درد لیے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ تاہم، اماں حوری جیسے بلوچ ماؤں کا درد آج قوم کے اجتماعی شعور کا حصہ بن چکا ہے، جو بلوچ قوم کی ریاست پاکستان سے رشتے کو کمزور کرتا رہے گا اور یہ مشترکہ قومی درد بلوچ سیاسی شعور کو بڑھانے کا سبب بھی بنے گا۔