کراچی: طالب علم دانیال ناصر، محمد اقبال اور ارشاد علی جبری لاپتہ

43

کراچی سے پاکستانی فورسز نے تین افراد کو جبری طور پر لاپتہ کردیا۔ ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے پولیس نے ہراساں کیا – اہلخانہ

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق 16 فروری کو پاکستانی فورسز نے NCCI ہسپتال کراچی کے نزدیک سے دانیال ناصر ولد عبدالناصر، محمد اقبال ولد خالق داد اور ارشاد علی سکنہ جعفر آباد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ جبری لاپتہ تینوں نوجوان علاج کروانے کراچی گئے تھے، لیکن انہیں وہاں سے فورسز اہلکاروں نے جبری لاپتہ کردیا، اہلخانہ جب اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے متعلقہ پولیس اسٹیشن گئے، ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے پولیس نے اہلخانہ کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنا شروع کیا۔

وی بی ایم پی کے چیرمین نصر اللہ بلوچ نے دانیال ناصر، محمد اقبال اور ارشاد علی کی جبری گمشدگی اور متعلقہ پولیس تھانہ کے اہلکاروں کی طرف سے جبری لاپتہ نوجوانوں کے اہلخانہ کو ہراساں کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کے نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی فوری طور پر نوٹس لیں، اور دانیال ناصر، محمد اقبال اور ارشاد علی کی باحفاظت بازیابی میں اپنی کردار ادا کریں۔