بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پاکستانی فوج نے ایک اور گھر کو مسمار کردیا، اس دوران خواتین و بچوں سمیت دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بناکر نزیر احمد بادینی کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
نوشکی کے علاقے کلی شریف خان میں پاکستانی فوج نے آج نزیر احمد بادینی کے گھر کو ہیوی مشنری سے تباہ کردیا۔ نزیر احمد بادینی معروف شاعر ابصار بلوچ کے والد ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق اس دوران پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے گھر میں موجود خواتین و بچوں سمیت دیگر افراد کو بلاتفریق شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کے مطابق فورسز اہلکاروں نے خواتین کو بندوق کے بٹ ماریں۔
نزیر بادینی کے ایک جوانسال بیٹے و نامور فٹبال کھلاڑی بالاچ بادینی کو مئی 2024 میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ بالاچ بادینی اس سے قبل جبری گمشدگی کا نشانہ بنے تھے۔ مقامی افراد کے مطابق بالاچ بادینی کو پاکستانی خفیہ اداروں کی سرپرستی میں چلنے والے مسلح گروہ ‘ڈیتھ اسکواڈ’ کے ارکان نے قتل کیا تھا۔
اس سے قبل پاکستانی فوج نے نوشکی اور گوادر میں بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب بلوچ سمیت دیگر تین افراد کے آبائی گھروں کو بھی مسمار کیا تھا۔ مذکورہ گھروں میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء بہادر خان مینگل کا گھر بھی شامل تھا۔
واضح رہے کہ 31 جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن “ھیروف” کے تحت بلوچستان کے چودہ شہروں میں مربوط حملے کرکے کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران نوشکی شہر پر بھی بلوچ لبریشن آرمی نے کنٹرول حاصل کیا جو چھ روز تک جاری رہا۔
بی ایل اے کے مربوط حملوں کے بعد بلوچستان بھر میں جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کے واقعات میں مزید اضافہ دیکھا گیا جبکہ گذشتہ پندرہ روز کے دوران 25 سے زائد افراد کی لاشیں ملی ہے جن میں سے اکثریت کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طور پر ہوئی ہے۔



















































