سمو جان: یادوں کا روشن چراغ – وسیمہ بلوچ

96

سمو جان: یادوں کا روشن چراغ

تحریر: وسیمہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

زندگی کے سفر میں کچھ لوگ ایسے ملتے ہیں جو وقت کی قید میں نہیں آتے۔ وہ چاہے مختصر مدت کے لیے ساتھ رہیں، مگر اپنی موجودگی سے دل پر ایسی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں جو برسوں تک تازہ رہتی ہے۔ سمو بھی میرے لیے ایک ایسا ہی روشن چراغ تھی خاموش سی، مگر اندر سے روشنی سے بھری ہوئی۔

سمو جب پہلی بار ہم سے ملے تو اس کے چہرے پر ہلکی سی جھجھک اور آنکھوں میں اجنبیت کا عکس تھا۔ ہمارے ماحول، ہماری بولی اس سے مختلف تھی۔ اس کی زبان کے الفاظ ہمارے لیے نئے تھے اور ہمارے جملے اس کے لیے، ابتدا میں گفتگو کے دوران رک رک کر بات ہوتی، کبھی ہم مسکرا کر رہ جاتے اور کبھی وہ شرمندہ سی ہنس دیتی۔ مگر ان مختصر جملوں کے پیچھے ایک سچی خواہش تھی ایک دوسرے کو سمجھنے اور قریب آنے کی۔

ہم اکثر شام کے وقت ایک ساتھ بیٹھتے۔ کبھی چائے کے کپ کے ساتھ، کبھی کتابوں کے درمیان، اور کبھی بس خاموشی میں۔ ہم اشاروں اور مسکراہٹوں سے بات مکمل کر لیتے۔ آہستہ آہستہ ہم نے اس کی بولی کے لفظ یاد کرنا شروع کیے، اور اس نے ہمارے۔ یہ سیکھنے کا عمل محض الفاظ تک محدود نہ تھا، بلکہ ہم ایک دوسرے کی عادات، مزاج اور احساسات بھی سمجھنے لگے تھے۔ زبان کا فرق ختم ہونے لگا اور دلوں کی ہم آہنگی بڑھتی گئی۔

صرف تین مہینوں میں ہماری دوستی ایسی مضبوط ہو گئی کہ جیسے برسوں پرانی ہو۔ اب ہم ہر کام ایک ساتھ کرتے۔ کلاس جانا ہو یا کوئی ذمہ داری نبھانی ہو، ہم ایک دوسرے کا سہارا بنتے۔ اگر میں تھک جاتی تو وہ میرا حوصلہ بڑھاتی، اور اگر وہ پریشان ہوتی تو میں اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کا دل ہلکا کرتی۔ ہماری ہنسی گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجتی اور ماحول میں خوشی گھل جاتی۔

سمو کی شخصیت میں ایک عجیب سا وقار تھا۔ وہ کم بولتی، مگر جب بولتی تو دل سے بولتی۔ اس کی باتوں میں سچائی کی مٹھاس اور خلوص کی خوشبو ہوتی۔ وہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتی اور کسی کی تکلیف دیکھ کر بے چین ہو جاتی۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ہر رشتے کو اہمیت دیتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا، کسی کی ناراضی کو فوراً محسوس کر لینا اور محبت سے اسے دور کرنا یہ سب اس کی عادتوں میں شامل تھا۔

ہم اکثر مستقبل کے خوابوں پر بات کرتے۔ وہ اپنے وطن، اپنی مٹی اور اپنے لوگوں کا ذکر بڑے فخر سے کرتی۔ اس کی آنکھوں میں ایک چمک ہوتی جب وہ اپنی سرزمین کی خوبصورتی بیان کرتی۔ میں محسوس کرتی تھی کہ وہ صرف ایک عام لڑکی نہیں، بلکہ اپنے اندر ایک مضبوط ارادہ اور گہرا جذبہ رکھتی ہے۔

جب اس کا شوہر اس سے ملنے آیا تو ہم مذاق میں اسے چھیڑتے۔ کہتے، “اب تم ہمیں بھول جاؤ گی، ہمارے ساتھ کہاں بیٹھو گی!” وہ ہنستے ہوئے جواب دیتی، “دوستی کوئی کپڑا نہیں جو بدل لیا جائے، یہ تو دل میں بس جاتی ہے۔” اس کی یہ بات ہمارے لیے محض جملہ نہ تھی بلکہ ایک یقین تھا۔ وہ واقعی دوستی کو ایک مقدس رشتہ سمجھتی تھی۔

وقت گزرتا گیا اور ہماری یادوں کا خزانہ بھرتا گیا۔ ایک دن اچانک اس کا نمبر بند ہو گیا۔ ابتدا میں ہم نے سوچا شاید نیٹ ورک کا مسئلہ ہو، یا مصروفیت۔ مگر دن ہفتوں میں بدل گئے، انتظار ایک عجیب کیفیت ہے یہ انسان کو امید اور خوف کے درمیان معلق رکھتا ہے۔ ہم ہر روز کسی خبر کے منتظر رہتے۔ کبھی دل خود کو تسلی دیتا، کبھی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ پھر وقت نے ہمیں یہ سکھایا کہ کچھ سوالوں کے جواب دیر سے ملتے ہیں، اور پھر خبر آئی ایسی خبر جس نے درختوں کی ٹہنیوں کو جھکا دیا اور آسمان کی وسعتوں میں ایک گہری خاموشی بھر دی کہ سمو دشمن سے لڑتے ہوئے اپنے وطن کی مٹی پر قربان ہوگئی۔

وہی سمو… ایک خاموش طبع لڑکی، جس کی آنکھوں میں ہمیشہ دھیمی سی روشنی رہتی تھی اور لبوں پر کم گوئی کی مہر ثبت تھی۔ مگر اُس کے سینے میں ایک ایسا طوفان پل رہا تھا جس کا اندازہ کسی کو نہ تھا۔ غلامی کا دکھ اُس کے دل میں دہکتے انگارے کی طرح سلگتا رہتا تھا۔ وہ کم بولتی تھی، مگر جب وطن کی بات آتی تو اُس کی خاموشی میں بھی ایک عزم کی گرج سنائی دیتی۔

جب دشمن سے اس کا سامنا ہوا اُس نے بندوق کو یوں تھاما جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو سینے سے لگاتی ہے۔ اُس کی نظریں پتھر کی مانند مضبوط اور قدم پہاڑوں جیسے ثابت تھے۔ گولیوں کی تڑتڑاہٹ، بارود کی بو اور چیخ و پکار کے بیچ وہ کسی آہنی دیوار کی طرح ڈٹی رہی۔

دشمن شاید یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ ایک نحیف سی لڑکی کیا مقابلہ کرے گی، مگر وہ نہ جانتے تھے کہ سمو کے اندر صدیوں کی محرومی، ذلت اور غلامی کا کرب موجزن تھا۔ اُس نے ہر گولی کے ساتھ اپنے دل کا درد بھی برسایا۔ وہ دشمن پر قہر بن کر ٹوٹی، بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھی اور ہر وار میں اپنے وطن کی محبت کو شامل کر دیا۔

سمو اب ہمارے درمیان نہیں، مگر اس کی یادیں ہمارے ساتھ ہیں۔ اس کی ہنسی آج بھی کانوں میں گونجتی ہے، اس کی نصیحتیں آج بھی حوصلہ دیتی ہیں، اور اس کی دوستی آج بھی دل کو گرمائش بخشتی ہے۔ وہ ہماری زندگی کا ایک ایسا باب تھی جو مختصر ضرور تھا، مگر بے حد معنی خیز۔

اس نے ہمیں سکھایا کہ سچی دوستی زبان، فاصلے اور وقت کی محتاج نہیں ہوتی۔ اصل رشتہ دلوں کا ہوتا ہے، اور جب دل صاف ہوں تو ہر فرق مٹ جاتا ہے۔ اس نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ محبت اور خلوص انسان کو یادگار بنا دیتے ہیں۔

مگر سمو مری نہیں… وہ ہر اُس دل میں زندہ ہے جو غلامی کے خلاف دھڑکتا ہے۔ وہ ہر اُس ماں کی دعا میں شامل ہے جو اپنے بچوں کو بہادری کی کہانیاں سناتی ہے۔ اُس کی خاموشی اب ایک داستان بن چکی ہے، اُس کا نام ہوا کے دوش پر سفر کرتا ہے، اور اُس کی قربانی وطن کی مٹی میں خوشبو کی طرح ہمیشہ مہکتی رہے گی۔

اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُس کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ ہم اپنی زمین کی حفاظت کو اپنا فرضِ اوّل جانیں، آزادی کی جدوجہد کو ایک مقدس امانت سمجھ کر سنبھالیں، تو شہادتیں ہمیشہ ہمارے لیے روشنی کا مینار بنی رہے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔