بارکھان: سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلے میں مارے گئے افراد کی شناخت لاپتہ افراد کے طور پر ہوگئی

160

بارکھان کے اسپتال میں چھ لاشیں لائی گئی ہیں جن کے بارے میں سی ٹی ڈی کا دعویٰ تھا کہ انہیں مقابلے میں مارا گیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع بارکھان سے اطلاعات کے مطابق رکھنی اسپتال میں لائی گئی ان چھ لاشوں میں سے تین کی شناخت ہوگئی ہے، جن میں جنوری 2024 کو جھل مگسی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے اکبر ولد نواب خان ڈومکی، بڈھا ولد محمد مراد لاشاری اور مکھن ولد مرید لاشاری شامل ہیں۔

اکبر ولد نواب خان ڈومکی اس سے قبل 2022 میں اپنے بھائی جوسف کے ہمراہ جبری گمشدگی کا شکار بنے تھے، جہاں بعد ازاں ان کے بھائی جوسف کو نصیر آباد نوتال میں سی ٹی ڈی نے ایک جعلی مقابلے میں قتل کردیا تھا۔

دونوں بھائیوں کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں ایک بھائی کے جعلی مقابلے میں قتل کی تصدیق بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے اکتوبر 2022 میں کردی تھی، جبکہ اکبر کو 2024 میں دوبارہ جبری گمشدگی کے بعد آج قتل کردیا گیا ہے۔

رکھنی اسپتال میں لائی گئی مزید تین لاشوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی، تاہم خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ بھی پہلے سے جبری لاپتہ افراد ہوں گے۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک بار پھر جعلی مقابلوں میں پہلے سے زیرحراست اور جبری لاپتہ افراد کو قتل کرنے کے واقعات میں شدت آئی ہے، جہاں صرف دو روز میں 18 افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز کراچی کے علاقے ملیر میں مبینہ مقابلے میں چار بلوچ نوجوانوں کو قتل کیا گیا تھا، جن کی بعد ازاں شناخت پہلے سے زیرِ حراست افراد کے طور پر ہوئی، کراچی میں قتل ہونے والے ان نوجوانوں کے لواحقین نے آج پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور پریس کانفرنس بھی کی۔

مزید برآں، کوئٹہ میں بھی سی ٹی ڈی کی جانب سے 8 افراد کو مبینہ مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔