جنگیان رشید بلوچ کی غیر قانونی حراست اور بے دردی سے قتل
تحریر: صاحب داد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
کسی بھی مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی بنیاد انصاف آئین کی بالادستی اور انسانی جان کے احترام پر استوار ہوتی ہے۔ ریاست اور اس کے اداروں کی اصل طاقت اسلحے یا اختیار میں نہیں بلکہ قانون کی پاسداری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں مضمر ہوتی ہے۔
جب کسی فرد کو بغیر شفاف قانونی عمل کے حراست میں لیا جائے اس کے اہل خانہ کو لاعلم رکھا جائے اور بعد ازاں اس کی تشدد زدہ لاش برآمد ہو تو یہ محض ایک واقعہ نہیں رہتا بلکہ انصاف کے پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
پنجگور میں جنگیان رشید بلوچ کے ساتھ پیش آنے والا سانحہ بھی اسی نوعیت کا ایک المیہ ہے جو نہ صرف قومی قوانین بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے تناظر میں بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
جنگیان بلوچ ولد عبدالرشید کو 26 مئی 2025 کو پنجگور کے علاقے پروم جائین میں پاکستانی فورسز نے تفتیش کے نام پر اپنی تحویل میں لیا۔ اس کے بعد ان کے اہل خانہ نے مسلسل کوشش کی کہ انہیں قانونی طریقے سے عدالت میں پیش کیا جائے یا کم از کم ان کی حراست کی تصدیق کی جائے۔ پنجگور سے لے کر کوئٹہ تک اہل خانہ اور مقامی افراد نے احتجاج کیے، متعلقہ اداروں کے دروازے کھٹکھٹائے اور یہی مطالبہ کیا کہ اگر جنگیان پر کوئی الزام ہے تو اسے آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ وہ اپنی صفائی پیش کر سکے۔ تاہم کئی ماہ گزر جانے کے باوجود نہ تو اس کی باضابطہ گرفتاری ظاہر کی گئی اور نہ ہی اسے کسی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔
تقریباً نو ماہ بعد 15 فروری 2026 کو شاپاتان کے علاقے سے دو تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں جن میں سے ایک کی شناخت جنگیان رشید بلوچ کے طور پر کی گئی۔ یہ خبر اہل خانہ کے لیے قیامت سے کم نہ تھی۔ اگر واقعی اس پر کوئی جرم ثابت ہوتا تو ریاست کے پاس باقاعدہ عدالتی نظام موجود ہے جہاں شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اگر کسی شخص کو غیر اعلانیہ حراست میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جائے اور پھر اس کی لاش پھینک دی جائے تو یہ نہ صرف آئین پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق خصوصاً زندگی آزادی اور منصفانہ ٹرائل کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی نفی ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی منشور برائے انسانی حقوق Universal Declaration of Human Rights کا آرٹیکل 3 ہر انسان کو زندگی اور آزادی کا حق دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 5 کسی بھی فرد پر تشدد یا ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کی ممانعت کرتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 9 کے مطابق کسی کو بھی من مانی گرفتاری یا حراست کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ مزید برآں شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے International Covenant on Civil and Political Rights ICCPR جس کا پاکستان فریق ہے منصفانہ سماعت اور قانونی عمل کی ضمانت دیتا ہے۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف اقوام متحدہ کے اعلامیے اور تشدد کے خلاف کنونشن Convention Against Torture بھی واضح طور پر ایسے اقدامات کی ممانعت کرتے ہیں۔
اگر کسی فرد کو خفیہ حراست میں رکھا جائے اہل خانہ سے اس کی معلومات چھپائی جائیں اور بعد میں اس کی تشدد زدہ لاش ملے تو یہ جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آ سکتا ہے جو بین الاقوامی سطح پر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سمجھی جاتی ہیں۔
ایسے واقعات کے سماجی اثرات بھی گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔ ایک خاندان اپنے پیارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے امید اور خوف کے درمیان معلق رہتا ہے اور آخرکار جب لاش ملتی ہے تو وہ صدمہ ناقابل بیان ہوتا ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے معاشرے میں بے چینی عدم اعتماد اور احساس محرومی کو جنم دیتی ہے۔
جنگیان رشید بلوچ کا سانحہ محض ایک فرد یا ایک خاندان کی داستان الم نہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ ایسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ معاشرہ کس سمت جا رہا ہے۔ انصاف کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ مجرم کو سزا ملے بلکہ یہ بھی ہے کہ ہر شخص کو اپنے دفاع کا حق اور انسانی وقار کی ضمانت فراہم کی جائے۔
کیا بلوچ کے لیے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات اور آئینی تقاضے محض رسمی دستاویزات ہیں یا وہ اخلاقی اور قانونی عہد رکھتے ہیں؟ ایک پائیدار اور پرامن معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب قانون سب کے لیے یکساں ہو طاقتور اور کمزور میں فرق نہ کیا جائے اور انسانی جان کی حرمت کو اولین ترجیح دی جائے۔ ہمیں بطور معاشرہ اس اصول پر متفق ہونا ہوگا کہ انصاف میں تاخیر یا انکار دراصل ناانصافی کو جنم دیتا ہے۔ لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کو عملی شکل دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی غیر یقینی خوف اور بے بسی کا شکار نہ ہو اور حقیقی امن و استحکام قائم ہو سکے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































