بلوچستان میں اظہارِ لاتعلقی کے مبینہ پریس کانفرنسز، اہلخانہ کو دباؤ کا سامنا

88

بلوچستان میں مبینہ طور پر مسلح تنظیموں کے ارکان کے اہلخانہ پر ریاستی دباؤ کے الزامات میں شدت آگئی ہے، جہاں حالیہ دنوں میں متعدد لواحقین کو مبینہ طور پر اپنے عزیزوں سے اظہارِ لاتعلقی کی پریس کانفرنسیں کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ کوئٹہ اور تربت سمیت مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی ان پریس کانفرنسوں کو انسانی حقوق کے حلقے اجتماعی سزا کی پالیسی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حالیہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بلوچستان میں نگرانی اور دباؤ کے اقدامات بڑھائے گئے ہیں۔ سرکاری سطح پر یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ مسلح سرگرمیوں سے مبینہ وابستگی کی صورت میں خاندانوں کو بھی ذمہ دار ٹہرایا جاسکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف انفرادی ذمہ داری کے اصول سے متصادم ہے اور اجتماعی سزا کے مترادف ہے، جس کی نہ ملکی قانون میں گنجائش ہے اور نہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات میں۔

کوئٹہ، کیچ اور حب سے اس نوعیت کے مبینہ پریس کانفرنسز کیئے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ خاندانوں کو سرعام بیانات دینے پر مجبور کرنا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس عمل سے خاندانوں پر سماجی، نفسیاتی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے، جبکہ زمین و جائیداد، ملازمت اور دیگر شہری حقوق سے محرومی کی مبینہ دھمکیاں ایک نئے خظرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں انہیں بحالت مجبوری ایسے بیانات دینے پڑ رہے ہیں جن سے وہ ذاتی طور پر متفق نہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق بی ایل اے کی آپریشن ہیروف کے دوران عوامی حمایت دیکھنے میں آئی جبکہ پاکستانی عسکری اداروں و حکومت کی جانب سے مسلح تنظیموں کے مبینہ ارکان کو پریس کانفرنسز پر مجبور کرنا ریاست کے خلاف مزید نفرتوں میں اضافے کا باعث بنے گی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اہلخانہ سے تفصیلات فراہمی پر مجبور کرنا بھی ریاستوں اداروں پر سوال اٹھاتی ہے کہ ان کے پاس مکمل مسلح تنظیموں کے حوالے سے معلومات کی کمی ہے۔

خیال رہے گذشتہ دنوں بی ایل اے کے آپریشن ہیروف کے بعد نوشکی اور گوادر میں پاکستانی فورسز نے کم از کم چار گھروں کو دھماکہ خیز مواد اور ہیوی مشنری سے تباہ کیا۔ ان گھروں میں سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے کے گھر بھی شامل تھیں۔

مزید برآں مسخ شدہ لاشوں کی برآمد میں بھی اضافہ ہوا ہے، پنجگور اور کوئٹہ سے نو افراد کی لاشیں ملی ہے جن میں سے پانچ افراد کی شناخت پہلے سے جبری لاپتہ افراد کے طور ہوئی ہے۔