بلوچستان کے علاقے پنجگور میں لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اطلاعات مطابق آج پھر پنجگور گیس پلانٹ کے قریب سی پیک روڈ کے کنارے ایک لاش برآمد ہوئی ہے۔
مذکورہ لاش کو شناخت کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
گزشتہ روز بھی پنجگور کے علاقے شاپاتاں سے 2 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں، دونوں کی شناخت جنگیاں ولد عبدالرشید سکنہ پروم اور سعید ولد مولاداد سکنہ کاٹاگری گوارگو کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل پنجگور کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور زیرِ حراست افراد کے قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
رواں سال 1 فروری کو ڈرائیور کریم جان، 3 فروری کو جاسم جان، 7 فروری کو پزیر بلوچ، 14 فروری کو نواب عبداللہ اور 15 فروری کو جنگیاں بلوچ کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس سے قبل 13 جنوری کو پنجگور وشبود سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے زوہیب ولد محمد اعظم کی لاش بھی بعد ازاں برآمد ہوئی تھی۔
اسی طرح رواں سال کے ابتدائی دو مہینوں میں دکی سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے دو افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں، جن میں 6 فروری 2026 کو 20 سالہ کسان محمد فرید بلوچ کی تشدد زدہ لاش شامل ہے جنہیں پاکستانی فورسز نے 4 جون 2025 کو گھر سے جبری طور پر حراست میں لیا تھا۔
اسی طرح محمد انور بلوچ کی لاش 4 جنوری کو برآمد ہوئی جو بھی جون 2025 سے جبری لاپتہ تھے۔
پنجگور اور دیگر علاقوں میں حالیہ بڑھتی ہوئی لاشوں کی برآمدگی کے واقعات پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ یہ واقعات بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں۔
جبری گمشدگیاں، غیرقانونی حراست، تشدد اور ماورائے عدالت قتل ایک منظم پالیسی کی شکل اختیار کرچکے ہیں جن سے عام شہری، کسان، مزدور اور نوجوان سب متاثر ہورہے ہیں۔
بی وائی سی کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین، بشمول آرٹیکل 6 اور 9 (ICCPR) اور آرٹیکل 33 (چوتھا جنیوا کنونشن) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائیں، ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنائیں، اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے میں کردار ادا کریں۔
بی وائی سی کے مطابق عالمی خاموشی ان واقعات کے تسلسل کو مزید تقویت دیتی ہے۔

















































