بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا ونگ ہکل نے آپریشن ’ہیروف فیز ٹو‘ میں شامل تین مزید ارکان کی تصاویر اور تفصیلات شائع کر دی ہیں۔
میڈیا ونگ کے مطابق فدائی بالاچ شاہ کا تعلق تمپ کے علاقے بوستان سے تھا، ایک ایسا خطہ جہاں مزاحمت محض سیاسی مؤقف نہیں بلکہ سماجی شعور کا حصہ ہے۔ اگست 2023 میں بی ایل اے سے وابستگی اختیار کرنے کے بعد انہوں نے نہایت کم عرصے میں اپنی سنجیدگی، نظم و ضبط اور عملی مہارت سے خود کو ایک ذمہ دار سرمچار کے طور پر منوایا۔ اکتوبر 2023 میں مجید بریگیڈ میں شمولیت ان کی عسکری و ذہنی تیاری کا واضح اظہار تھا۔
آپریشن ہیروف فیز ٹو کے دوران دالبندین محاذ پر وہ بطور آپریشن کمانڈ ذمہ دار مقرر ہوئے۔ اس حساس محاذ پر انہوں نے نہ صرف منصوبہ بندی اور فیلڈ کوآرڈی نیشن کی نگرانی کی بلکہ صفِ اوّل میں رہ کر ساتھیوں کی رہنمائی بھی کی۔ آپ اسی ذمہ داری کی ادائیگی کرتے ہوئے شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔
ہکل میڈیا کے مطابق فدائی شیہک بلوچ عرف سبزو کا تعلق تربت سے تھا۔ 2024 میں بی ایل اے سے وابستگی کے بعد انہوں نے کم وقت میں اپنی ذمہ داری، خاموشی اور عملیت پسندی سے خود کو صفِ اوّل کے سرمچاروں میں شامل کرلیا۔ وہ نمایاں ہونے کی کوشش نہیں کرتے تھے، لیکن میدانِ عمل میں ان کی موجودگی خود اپنی پہچان بن جاتی تھی۔
تنظیم کے مطابق آپریشن ہیروف ون کے دوران وہ فرنٹ لائن پر دشمن سے براہِ راست جھڑپوں میں شریک رہے اور شدید زخمی ہوئے۔ اس مرحلے پر بہت سے لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، مگر سبزو نے واپسی کو انتخاب بنایا۔ صحت یابی کے بعد وہ پہلے سے زیادہ سنجیدہ اور مرکوز انداز میں دوبارہ محاذ پر موجود تھے۔
آپریشن ہیروف ٹو میں دالبندین محاذ پر فوجی کیمپ کو وی بی آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنانا ان کے اسی تسلسل کا منطقی انجام تھا۔ انہوں نے فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا اور اسے آخری حد تک نبھایا۔ ان کی شہادت ایک ایسے سرمچار کی علامت ہے جس نے جدوجہد کو وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک مستقل ذمہ داری کے طور پر اپنایا۔
جبکہ ہکل میڈیا کے مطابق فدائی حامد بگٹی عرف غنی، ولد: قاسم بگٹی
سکنہ: مچھ، بولان نے جنوری 2024 میں بی ایل اے اور جون 2024 میں وہ مجید برئیگیڈ کے حصہ بنے۔
تنظیم کے مطابق فدائی حامد بگٹی کا تعلق مزاحمت کے تاریخی محاذ بولان سے تھا، جہاں ہر دور میں بلوچ عوام نے قابض قوتوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مزاحمت کی تاریخ رقم کی ہے۔ پاکستانی قبضے کے آغاز سے ہی بولان مزاحمت کی ایک اہم علامت کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ شہید فدائی حامد بگٹی نے اسی مزاحمتی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا۔
مزید کہا ہے کہ فدائی حامد بگٹی ایک نہایت تربیت یافتہ سرمچار تھے، جو جنگی حکمتِ عملی، عسکری مہارت اور گوریلا جنگ کی تکنیکوں میں مہارت رکھتے تھے۔ انہیں جنگی محاذ کے جغرافیے اور موسمی حالات پر بھی گہری دسترس حاصل تھی۔ بولان کے محاذ پر مختلف معرکوں میں انہوں نے قابض فوج کے خلاف کارروائیوں میں مؤثر کردار ادا کیا۔ وہ نظریاتی اور فکری حوالے سے بھی باشعور سرمچار تھے۔ بی ایل اے میں شمولیت کے مختصر عرصے بعد انہوں نے مجید بریگیڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، جو ان کی سنجیدہ وابستگی اور عزم کا اظہار تھا۔
ہکل میڈیا کے مطابق آپریشن درۂ بولان فیز ٹو کے دوران جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ کے کاروائی میں وہ صفِ اوّل میں موجود تھے۔ اس آپریشن کے دوران انہوں نے فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے کئی دن تک دشمن پر کاری ضربیں لگائیں اور دشمن کو شدید نقصان سے دوچار کیا۔
آپریشن ہیروف فیز ٹو میں وہ دالبندین کے محاذ کا حصہ تھے۔ وہاں انہوں نے صفِ اوّل میں رہ کر اپنی جنگی حکمتِ عملی اور بہادری سے لڑتے ہوئے قابض فوج کو اس کے ہیڈکوارٹر کے اندر پسپائی پر مجبور کیا۔ شہید فدائی حامد بگٹی دالبندین کے محاذ پر لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔


















































