سوراب: جبری طور پر لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد

43

بلوچستان کے علاقے سوراب سے ایک جبری طور پر لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والے کلی ہتھیاری گدر کے رہائشی جنید احمد ولد علی احمد ریکی کی لاش ملی ہے۔

ذرائع کے مطابق مرحوم جی ٹی اے بلوچستان ضلع سوراب کے صدر علی احمد ریکی کے فرزند تھے۔

لاش کی برآمدگی کے بعد علاقے میں غم و افسوس کی فضا پائی جا رہی ہے۔

ادھر پنجگور میں گزشتہ روز ملنے والی ایک اور لاش کی شناخت سعید ولد مولا داد سکنہ کاٹا گری پنجگور کے نام سے ہوئی ہے۔

مقامی سماجی کارکنوں کے مطابق حالیہ ایک ہفتے کے دوران بلوچستان میں درجنوں لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جبکہ ضلع پنجگور سے آٹھ لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لاشوں کی شناخت ہو سکی، وہ تمام ایسے افراد کی تھیں جن کے اہل خانہ پہلے ہی ان کی جبری گمشدگی کی شکایات درج کرا چکے تھے۔

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوراب سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ طالب علم جنید احمد کو 23 جنوری 2026 کو کوئٹہ کے چلڈرن اسپتال سے مبینہ طور پر ایگل فورس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔ ایک ماہ بعد ان کی لاش ایسٹرن بائی پاس کے قریب ملی، جس کے ہاتھ اور پاؤں بندھے ہوئے تھے اور جسم پر گولیوں کے نشانات موجود تھے، جو مبینہ حراستی قتل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

تنظیم کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف حقِ زندگی اور غیرقانونی گرفتاری و حراست سے آزادی جیسے بنیادی حقوق — جن کی ضمانت بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) دیتا ہے — کی خلاف ورزی ہے، بلکہ اس میں تشدد اور غیرانسانی سلوک کی ممانعت جیسے اصول بھی پامال ہوئے ہیں، جنہیں کنونشن اگینسٹ ٹارچر (CAT) واضح طور پر ممنوع قرار دیتا ہے۔ مزید برآں، جبری گمشدگی بذاتِ خود اقوامِ متحدہ کے اعلامیہ برائے تحفظِ تمام افراد از جبری گمشدگی اور رائج بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔

تنظیم نے اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں، خصوصاً ورکنگ گروپ آن ان فورسڈ یا ان وولنٹری ڈس اپیئرنسز (WGEID)، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور پاکستان پر شفاف اور آزادانہ تحقیقات کے ساتھ ذمہ داروں کے احتساب کے لیے دباؤ بڑھائیں۔

تنظیم کے مطابق جب تک آزادانہ تحقیقات اور جوابدہی کا مؤثر نظام قائم نہیں ہوتا، بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور غیرقانونی قتل کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ برقرار رہے گا