بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ایک بار پھر تشویشناک واقعات پیش آئے ہیں جہاں زیرِ حراست تین بلوچ نوجوانوں جن میں طلبہ بھی شامل ہیں ،کو مختلف علاقوں میں قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی گئیں۔
لواحقین اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعات جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور لاشیں پھینکنے کے تسلسل کا حصہ ہیں، جس نے بلوچستان میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 15 فروری 2026 کو میٹرک کے طالب علم جنگیان بلوچ ولد عبداللہ راشد کی لاش پنجگور سے برآمد ہوئی۔
اہل خانہ کے مطابق جنگیان بلوچ کو 26 مئی 2025 کو پروم سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکاروں اور ریاستی حمایت یافتہ مسلح افراد نے حراست میں لیا۔ آٹھ ماہ تک اہل خانہ نے عدالتوں اور متعلقہ اداروں سے رجوع کیا، تاہم بازیابی کے بجائے انہیں ان کی تشدد زدہ لاش موصول ہوئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران اسی نوعیت کے دس سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
اسی طرح 14 فروری 2026 کو مہناس بلوچ ولد ماسٹر ظفر، جو 17 سالہ طالب علم تھے، کو تمپ، ضلع کیچ میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
مقامی افراد اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے رہے ہیں۔ لواحقین کے مطابق مقتول کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا الزام تھا۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
اسی روز ایف ایس سی کے طالب علم نواب عبداللہ کی لاش وشبود، پنجگور سے برآمد ہوئی۔
اہل خانہ کے مطابق انہیں 29 مئی 2025 کو گھر سے ان کی والدہ اور بہنوں کے سامنے مسلح اہلکاروں نے زبردستی اٹھایا۔ نہ کوئی مقدمہ درج کیا گیا اور نہ ہی کسی عدالت نے مداخلت کی۔ آٹھ ماہ تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
برآمد ہونے والی لاش پر گولیوں اور تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔
بی وائی سی نے کہا ہے کہ یہ تمام واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے تحت بنیادی انسانی حقوق، خصوصاً حقِ زندگی اور من مانی حراست سے تحفظ کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
مسلسل ایسے واقعات احتساب کے فقدان اور انسانی حقوق کے سنگین بحران کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔

















































