کوئٹہ کلی بنگلزئی، سریاب کسٹم کی رہائشی بی بی شاہدہ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے، جبری گمشدگیوں کے خلاف قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیٹے تنویر احمد (17 سال) اور بشیراحمد (15 سال) کو جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے حکام سے اپنے بیٹوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
بی بی شاہدہ کے مطابق، 3 فروری کی رات ایک بجے پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اس دوران ان کے دو بیٹے ان کی آنکھوں کے سامنے حراست میں لے لیے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے کہا تھا کہ بیٹوں سے صرف تفتیش کی جائے گی اور انہیں رات ہی چھوڑ دیا جائے گا، مگر گذشتہ 12 دنوں کے باوجود بیٹوں کی بازیابی یا ان کی خیریت کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی، جس سے ان کے خاندان کو شدید ذہنی کرب اور اذیت کا سامنا ہے۔
بی بی شاہدہ نے کہا کہ میرے بیٹے معصوم ہیں، میرا شوہر فوت ہو چکا ہے اور میں ایک بے سہارا ماں ہوں۔ میں سمجھ نہیں پا رہی کہ اپنے بیٹوں کے لیے کیا کروں۔ میں اپنی فریاد آپ کے سامنے پیش کر رہی ہوں تاکہ کوئی میری التجا سنے اور میرے بیٹوں کی بازیابی میں کردار ادا کرے۔”
انہوں نے صحافیوں کے توسط سے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اپنے بیٹوں کو بازیاب کرائیں اور اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے تو انہیں منظر عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ وہ جبری گمشدگی کی اذیت سے نجات پا سکیں۔
بی بی شاہدہ نے زور دیا کہ ان کے بیٹے مکمل طور پر بے گناہ ہیں اور ان کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔

















































