بلوچستان کے ضلع پنجگور میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آٹھ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع اور اہل خانہ کے مطابق جن لاشوں کی اب تک شناخت ممکن ہوئی ہے، وہ سب جبری گمشدگی کا شکار افراد کی تھیں۔
تازہ واقعے میں آج پنجگور سے مزید دو لاشیں ملنے کی اطلاع ہے، جن میں سے ایک کی شناخت جنگیاں ولد عبدالرشید کے نام سے ہوئی ہے، جو پنجگور کے علاقے پروم کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ دوسری لاش کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
اہل خانہ کے مطابق جنگیاں کو 26 مئی 2025 کو پنجگور کے علاقے پروم سے پاکستانی فورسز نے دیگر چار رشتہ داروں کے ہمراہ حراست میں لیا تھا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ بعدازاں دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا، تاہم جنگیاں کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
جنگیاں کے بڑے بھائی ملک میران نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے بھائی کو پاکستانی فورسز اور ان کے حمایت یافتہ مسلح گروہ، جسے مقامی سطح پر ’ڈیتھ اسکواڈ‘ کہا جاتا ہے، نے گرفتار کر کے پاکستانی فورسز کے کیمپ منتقل کیا تھا۔
مقامی سماجی کارکنوں کے مطابق حالیہ ایک ہفتے کے دوران پنجگور سے آٹھ لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لاشوں کی شناخت ہو سکی، وہ سب ایسے افراد کی تھیں جن کے اہل خانہ پہلے ہی ان کی جبری گمشدگی کی شکایات درج کرا چکے تھے۔



















































