بلوچ لبریشن آرمی کی حراست میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کی ویڈیو شائع

52

بلوچ لبریشن آرمی نے حراست میں لیے گئے پاکستانی فوج کے اہلکاروں کی ویڈیو اپنی آفیشل میڈیا چینل ہکّل پر شائع کیا ہے۔

ویڈیو میں پاکستانی فوج کے سات اہلکاروں کو وردی میں ملبوس دکھایا گیا ہے جو نامعلوم مقام پر بلوچ لبریشن آرمی کے مسلح ارکان کے حراست میں ہیں۔

مذکورہ اہلکاروں میں سے ایک کو ویڈیو میں بات کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے جس کا کہنا ہے کہ  میرا نام شمس تبریز ولد محمد قریش ہے، میں خیبر پختونخواہ، صوابی کا رہائشی ہوں اور اکتوبر دو ہزار بائیس میں (پاکستان فوج) میں بھرتی ہوا۔

مذکورہ اہلکار کا کہنا ہے کہ میں نائیک کے رینک پر ہوں۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ میں پاکستان فوج سے گزارش کرتا ہوں کہ بی ایل اے کے مطالبات پورے کریں تاکہ ہم رہا ہوسکیں۔

ویڈیو میں پاکستانی فوج کے اہلکاروں کا اسلحہ و دیگر سامان بھی دکھایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ اہلکاروں کو خضدار کے علاقے اورناچ سے اکتیس جنوری کو حراست میں لیا گیا تھا جہاں پاکستانی فوج کے قافلوں اور پیدل اہلکاروں کو شدید نوعیت کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ فوجی اہلکاروں کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ اورناچ سے خضدار کینٹ جارہے تھے جبکہ مذکورہ حملوں میں کیپٹن عمر ہلاک اور ایک کرنل رینک کا ایک افسر زخمی ہوا تھا جس کے بلٹ پروف گاڑی کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

خیال رہے گذشتہ روز بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن ہیروف دوم کے دوران پاکستانی فوج فوج کے سترہ اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا جن میں دس اہلکاروں کو بلوچ اور مقامی پولیس و لیویز سے وابستگی کے باعث وارننگ دے کررہا کردیا گیا۔ یہ فیصلہ زمینی حقائق، مقامی شناخت اور بلوچ عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ باقی سات اہلکار، جو قابض پاکستانی فوج کے ریگولر یونٹس سے وابستہ تھے، بی ایل اے کی تحویل میں رہے۔ ان کے خلاف بلوچ قومی عدالت میں باضابطہ سماعت عمل میں لائی گئی۔ اس عدالتی کارروائی کے دوران ان پر جنگی جرائم، شہری آبادیوں کے خلاف کارروائیوں، جبری گمشدگیوں میں معاونت، اور بلوچ نسل کشی کے عمل میں عملی شرکت کے الزامات عائد کیئے گئے۔

ترجمان نے کہا کہ عدالتی عمل کے دوران ملزمان کو صفائی کا موقع دیا گیا، شواہد پیش کیئے گئے، اور اقبالِ جرم کے بیانات ریکارڈ پر لائے گئے۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے انہیں الزامات کا مرتکب قراردیا ہے۔

جیئند بلوچ نے کہا کہ تاہم بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈ کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ بین الاقوامی جنگی اصولوں اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق رائج ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو سات دن کی مہلت دی جائے گی۔ اس مدت کے دوران اگر قابض ریاست باضابطہ طور پر جنگی قیدیوں کے تبادلے کے لیئے آمادگی ظاہر کرتی ہے، تو یہ سات فوجی اہلکار بلوچ جنگی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں تبادلہ کیئے جاسکتے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے، اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر قابض فوج کو جنگی قیدیوں کے تبادلے کی پیشکش کی گئی تھی، مگر پاکستانی فوج نے سنجیدہ پیش رفت کے بجائے اپنے اہلکاروں کی جانوں کو نظر انداز کیا اور تبادلے کے عمل کو آگے نہیں بڑھایا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اعلان کے ذریعے ایک بار پھر واضح کیا جاتا ہے کہ گرفتار شدہ سات فوجی اہلکاروں کی رہائی بلوچ جنگی قیدیوں کی رہائی سے مشروط ہے۔ اگر ایک ہفتے کے اندر قابض پاکستان کی جانب سے عملی اور باضابطہ پیش رفت نہیں کی جاتی، تو بلوچ قومی عدالت کے فیصلے کے مطابق ان پر دی گئی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ جنگی حالات میں بھی اصول، ضابطے اور باہمی ذمہ داریاں موجود رہتی ہیں۔ اب فیصلہ قابض پاکستانی ریاست کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں کی جانوں کے تحفظ کے لیئے سنجیدہ قدم اٹھاتی ہے یا حسبِ سابق خاموشی اور لاتعلقی اختیار کرکے اپنے کرائے کے سپاہیوں کی موت کو ترجیح دیتی ہے۔