بی ایل اے کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں آپریشن ’’ھیروف‘‘ میں حصہ لینے والے اپنے ارکان کی تفصیلات جاری کرنے کا سلسلہ برقرار ہے۔
تنظیم نے اپنے آفیشل چینل ’’ہکل‘‘ پر نوشکی محاذ میں جانبحق ہونے والے دو ارکان کی تفصیلات اور تصاویر جاری کی ہیں، جن میں فدائین خاتون ہتم ناز عرف گل بی بی کے بیٹے اور ایک ریجنل کمانڈر شامل ہیں۔
بی ایل اے کے مطابق آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے کے دوران نوشکی محاذ پر اپنی والدہ ہتم ناز عرف گل بی بی کے ساتھ حصہ لینے والے فتح اسکواڈ کے سرمچار سیف جان سمالانی عرف عاجز سکنہ بولان شہید ہوگئے۔
تنظیم نے ان کے بارے میں کہا کہ سیف جان سمالانی عرف عاجز اُن نوجوانوں میں شامل تھے جن کی مزاحمتی تربیت دشمن کے سائے میں نہیں بلکہ مادرِ وطن کی گود میں ہوئی، وہ بولان اور قلات جیسے سخت ترین محاذوں پر فتح اسکواڈ کے ایک پرعزم سرمچار کے طور پر سرگرم رہے۔
تنظیم کے مطابق آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے میں نوشکی محاذ پر شدید جھڑپوں کے دوران سیف جان نے آخری دم تک لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا، لیکن ان کی قربانی کو سمجھنے کے لیے صرف میدانِ جنگ کافی نہیں ان کی والدہ فدائی ہتم ناز سمالانی بلوچ قومی مزاحمت کی ان عظیم ماؤں میں شامل تھیں جنہوں نے بیٹے کو جدوجہد کے لیے رخصت کرنے کے ساتھ خود فدائی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
تنظیم نے کہا کہ ہتم ناز 2015 میں بی ایل اے سے وابستہ ہوئیں، 2016 میں دشمن کے ایک آپریشن کے دوران زخمی ہوئیں اور بعد ازاں ریاست کے ہاتھوں اغوا ہو کر چار ماہ لاپتہ رہیں، جنوری 2023 میں، عمر کی ساٹھویں دہائی میں انہوں نے مجید بریگیڈ میں فدائی شمولیت اختیار کی اور اپنے عزم کو عملی شکل دی۔
بی ایل اے نے کہا کہ آپریشن ھیروف کی تاریخ اس ماں اور بیٹے کی مشترکہ شہادت سے ایک نیا باب رقم کرتی ہے دونوں نے الگ الگ محاذوں پر لڑتے ہوئے ایک ہی خواب کی تکمیل میں جان دی سیف جان کی گواہی گولیوں کی گونج میں تھی اور ان کی ماں کی گواہی فدائی خاموشی میں ایک نے رائفل اٹھائی، دوسری نے بارود، اور دونوں نے وہ کہا جو الفاظ بیان نہیں کرسکتے۔
بی ایل اے نے نوشکی محاذ پر حصہ لینے والے اپنے ریجنل کمانڈر جعفر مینگل عرف کامریڈ سمیر ولد محمد بخش مینگل سکنہ کوئٹہ کے بارے میں کہا کمانڈر جعفر کا تعلق سریاب کوئٹہ کے نواحی علاقے سے تھا ایک ایسا خطہ جو ماؤں کی دعاؤں اور نوجوانوں کے سوالوں سے آباد ہے کمانڈر جعفر انہی نوجوانوں میں سے تھے جنہوں نے سوال صرف خود سے نہیں کیے بلکہ سیاست، سماج اور تاریخ سے بھی کیے اور ان کے جواب عملی راستے میں تلاش کیے۔
تنظیم کے مطابق سیاسیات میں اعلیٰ تعلیم رکھنے کے باوجود جعفر نے وہ روایتاً محفوظ راستہ نہیں چنا جو متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ نوجوان اختیار کرتے ہیں۔
انہوں نے جنگ کو بطور سیاسی عمل، اخلاقی ذمہ داری اور فکری بیانیہ اپنایا یہی وجہ تھی کہ بی ایل اے سے وابستگی کے دو برس بعد ہی وہ مجید بریگیڈ کے اہم ترین محاذوں کی کمان سنبھالنے والوں میں شامل ہوگئے، ساتھیوں نے ان کی قیادت کو اعتماد، تدبیر اور غیرمتزلزل نظم کے طور پر پہچانا۔
تنظیم نے مزید کہا کہ آپریشن ھیروف دوم کے دوران جعفر مینگل نے پانچ دن تک نوشکی کے حساس ترین اہداف آئی ایس آئی آفس، ایف سی ہیڈکوارٹر اور بس اڈہ ہیڈکوارٹر پر مسلسل جھڑپیں لڑیں وہ نہ صرف اپنے محاذ پر ڈٹے رہے بلکہ بار بار محاذ بدل کر ساتھیوں کی مدد کرتے، ان کی پوزیشن مضبوط کرتے اور آپریشن کی کامیابی کے بعد واپسی کے وقت ساتھیوں کو کور فراہم کرتے ہوئے خود آخر میں رکے۔
تنظیم کے مطابق یہ محض عسکری تدبیر نہیں تھی بلکہ وہ اخلاقی جرات تھی جو انہی افراد میں ہوتی ہے جو جدوجہد کو ذاتی فخر نہیں بلکہ قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
جعفر مینگل اس وقت شہید ہوئے جب وہ اپنے ساتھیوں کو محفوظ نکال چکے تھے اور خود کو دشمن کی گولیوں کے سامنے رکھتے ہوئے پیچھے رہ گئے تھے تاکہ کسی اور کا خون نہ بہے، ان کی شہادت صرف ایک کمانڈر کی نہیں بلکہ ایک بھائی، ایک استاد اور ایک خاموش سپاہی کی شہادت تھی، ان کی آخری لڑائی صرف دشمن سے نہیں بلکہ وقت سے تھی چند مزید لمحے خریدنے کے لیے تاکہ تمام ساتھی بحفاظت نکل سکیں۔
فدائی کمانڈر جعفر نہ صرف محاذ پر سرگرم تھے بلکہ تنظیمی تربیت، پلاننگ اور فکری رہنمائی میں بھی مرکزی کردار ادا کرتے تھے، خاران، دالبندین اور نوشکی ہیڈکوارٹرز کے کئی مشنوں کی منصوبہ بندی ان کی نگرانی میں ہوئی، وہ تربیت گاہوں میں فدائین کو ہتھیاروں کا استعمال ہی نہیں سکھاتے تھے بلکہ سیاسی شعور، ڈسپلن اور جدوجہد کی اخلاقیات پر بھی رہنمائی دیتے تھے ان کی شخصیت ایک متوازن، پختہ اور بےلوث انقلابی شعور کی نمائندہ تھی۔
تنظیم نے آخر میں کہا کہ شہید جعفر مینگل کی کہانی محض ایک فدائی کی کہانی نہیں بلکہ اس نوجوان نسل کی علامت ہے جس نے مزاحمت کو علم، فہم اور یقین کی بنیاد پر استوار کیا ان کی خاموشی میں بصیرت، ان کی قیادت میں اعتماد اور ان کی شہادت میں ایک پوری نسل کی گواہی موجود ہے ایسے لوگوں کے لیے تاریخ صرف صفحات نہیں لکھتی زمانے گواہی دیتے ہیں۔


















































