غرض اور بے غرضی کے درمیان عشق وطن اور فلسفہ قربانی !
تحریر: ہارون بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
ایک نوجوان، جوان سال، اپنی زندگی کے خوبصورت ترین دنوں میں بھی، جب وطن پر قربان ہونے جا رہا ہے، عشقِ وطن میں فنا ہونے جا رہا ہے، اپنی قوم اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے اپنی ذات کو ہمیشہ کے لیے دفن کر رہا ہے، اپنا آج ہم سب کے لیے قربان کر رہا ہے، وہ بھی بنا کسی ذاتی غرض کے، لیکن پھر بھی وہ اس کیفیت کا شکار ہے کہ یہ وطن کے لیے کم ہے۔ وہ اس وقت بھی یہی سوچ رہا ہے کہ میں نے سرزمین کے لیے کچھ نہیں کیا، یا بہت کم کیا، یا بہت زیادہ کیا جا سکتا تھا۔
ایک فدائی کے جذبات کیا ہوتے ہیں؟ کوئی انسان بنا کسی ذاتی غرض کے مر رہا ہے؟ یہ انسانی فطرت کے مخالف عمل ہے۔ انسان کا ہر عمل انسان کی ذات سے جڑا ہوا ہے، چاہے وہ انسانی محبت ہو یا محنت، اس میں کسی نہ کسی طرح ہر چیز ذاتی فائدے تک پہنچ جاتی ہے، لیکن وطن سے محبت ذاتی غرض سے الگ ہے۔ یہ فنا ہونے کا نام ہے، قربان ہونے کا عمل ہے، اپنی ذات کو مارنے کا عمل ہے۔ ایک ماں اپنے بچے کو چھوڑ کر وطن پر قربان ہونے جا رہی ہے، کوئی اپنے دودھ پیتے بچے کو چھوڑ کر سرزمین کی آزادی کے لیے فنا ہونے کو ترجیح دے رہا ہے۔ صرف چند لمحے ٹھہر کر اس کیفیت کو سمجھو، اس کی انتہا کا اندازہ لگاؤ، اس بے غرضی کو سمجھنے اور اس کے مقام کو پہچاننے کے لیے انسان کو اس مقام تک پہنچنا چاہیے جہاں سے وہ اس محبت، اس عشق کی انتہا کو سمجھ سکے۔
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ایک نوجوان، ایک خوش روح انسان، ایک باشعور، باعلم اور باعمل انسان فنا ہونے کی اس انتہا تک پہنچ چکا ہے جہاں اس کے لیے وطن سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں؟ گویا یہ زمین، اس کی آزادی، اس کے لوگ اس کے لیے عام انسان نہیں بلکہ زندگی کے حقیقی معنی ہیں۔ وہ ان میں جینے کو زندگی تصور کرتا ہے۔ حوا کو دیکھو، وہ پشیمان نہیں، وہ خوش ہے۔ کیا موت کو گلے لگاتے ہوئے خوشی محسوس ہو سکتی ہے؟ کیا کبھی انسانی ذہن نے یہ قبول کیا تھا کہ بنا کسی غرض کے موت کے وقت انسان اس حد تک خوش ہو سکتا ہے؟
چند لمحے بیٹھ کر یاسمہ کو دیکھو، اسے سمجھو، اس کی قربانی اور فنا ہونے کی انتہا تک پہنچنے کی کوشش کرو کہ اس وقت ہمارے ساتھی کس مقام تک پہنچ چکے ہیں۔ قربانی کا معیار، مقام، جگہ اور انتہا کیا ہے؟ اور انہی لمحوں میں اپنی ذات کے اندر جا کر خود سے سوال کرو، اپنے عہدے، پوزیشن، مقام اور کمفرٹ کو خود سے الگ کر کے دیکھو اور سمجھو کہ قربانی کا مقام کہاں تک پہنچ چکا ہے اور ہم کہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ یا شاید ہم غرض کے شکار ہو کر اس جدوجہد کو صرف حاصل کرنے کا مقام سمجھتے ہیں، لیکن کیا قربانی کی جنگ میں کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے؟
ان کے چہروں کو دیکھو اور سمجھنے کی کوشش کرو کہ آیا یہ اپنی ذات کے لیے کچھ چاہتے ہیں؟ اگر ہم ان کے مقام تک نہیں پہنچے تو ہم اس جدوجہد کی نمائندگی کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟ آیا اس بے غرضی کو سمجھنے میں ناکامی کے بعد بھی ہم خود کو انقلابی اور جہدکار کہہ سکتے ہیں؟ کیا واقعی ہم حقیقی اور انقلابی جہدکار ہیں یا بس جنگ کا حصہ ہیں۔ ہم کہنے کو تو خود کو جدوجہد کی بنیاد سمجھتے ہیں، ہم خیال اور سوچ میں جدوجہد سے وابستہ ہیں، لیکن دل میں سوچا جائے تو کیا واقعی ہم اس وطن سے اس حقیقی محبت کی انتہا تک پہنچے ہیں؟
اگر ہم اس مقام تک نہیں پہنچے جہاں ہم فنا ہونے کا مطلب سمجھیں، جہاں ہم فنا ہونے کو زندگی سمجھیں، جہاں ہم ہر غرض سے آزاد ہو جائیں، کیونکہ ایک انقلابی انسان بے غرض ہوتا ہے، وہ ہر ذاتی غرض سے آزاد ہوتا ہے، ہر ذاتی فکر سے آزاد ہوتا ہے، اس کی زندگی کا ہر لمحہ وطن کی جدوجہد میں مگن ہونے کا نام ہے۔ ایک انقلابی کردار کے جذبات فنا ہونے کے جذبات ہوتے ہیں، خود کو وطن کی محبت میں بکھیر دینے کے عمل کا نام ہیں۔ وہ اس مقام تک پہنچنا چاہتا ہے کہ اس کے ہر خیال، ہر فکر، ہر سوچ پر جدوجہد، سنگت، انقلاب اور تحریک غالب آ جائیں اور وہ زندہ بھی اسی مقصد کے لیے رہے۔ اس کی سانسیں بھی تحریک کے لیے چل رہی ہوں اور جب بھی وطن اور تحریک کا تقاضا ہو تو وہ انہیں ختم کرنے کے لیے تیار رہے۔
کیا ہم فنا ہونے کو تیار ہیں؟ کیا ہم موت کے سامنے اس فلسفے کو قبول کرنے کو تیار ہیں جس کا مقام کوئٹہ میں مجید نے قائم کیا ہے؟ جب وہ زخمی حالت میں ہوتا ہے، گولی کھانے کے بعد وہ چاہتا تو زخمی ہونے کا بہانہ بنا کر خود کو ایک محفوظ مقام تک پہنچا سکتا تھا، کچھ وقت مزید زندگی گزار سکتا تھا، لیکن وہ فیصلہ لینے میں گھبرا کیوں نہیں رہا؟ کیونکہ انہوں نے حقیقی معنوں میں انقلاب اور جدوجہد کو قبول کیا ہے۔ وہ بے غرض ہے۔ اس کی زندگی جدوجہد ہے، اپنی ذات کی نہیں۔ انہوں نے کئی وقت پہلے خود کو وطن پر فنا کر دیا ہے۔ اس وقت ایک جسم صرف زندہ ہے جو وطن کے لیے سانسیں لے رہا ہے۔ ان سانسوں پر اس کا حق نہیں بلکہ وطن کا حق ہے۔ وطن کی محبت اور عشق نے اس کی سانسیں اپنی بنا لی ہیں۔
جب ایک انسان عشقِ وطن میں مبتلا ہوتا ہے، جب وہ وطن کے لیے خود کو زندگی میں فنا کر دیتا ہے، جب وہ حقیقی طور پر انقلابی بن جاتا ہے، تو وہ ایک نئے انسان کا روپ دھار لیتا ہے۔ پھر وہ دیوانہ وطن ہوتا ہے، پھر وہ بے غرض ہو جاتا ہے۔ پھر وہ اس لمحے کا بے صبری سے انتظار کرتا ہے کہ کب وہ اس وطن پر ہمیشہ کے لیے قربان ہو جائے گا۔ پھر اسے وطن کے ہر ذرے، ہر چیز سے عشق ہو جاتا ہے۔
پھر اس کے لیے تنظیمی نظم و ضبط کوئی پابندی نہیں رہتی بلکہ عشقِ زمین کی حدود و قیود بن جاتے ہیں، وہ دائرے ہوتے ہیں جہاں عشق اور وطن پنپتا ہے۔ پھر تحریک کے اندر موجود سنگت اور سرمچار محض تنظیمی ممبرز یا عام انسان نہیں رہتے بلکہ اس کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر وہ تمام سنگتوں کو اپنے وجود کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ اگر کسی ساتھی سرمچار کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ زخم اپنی روح کے اندر محسوس کرتا ہے۔
اگر آپ اپنے ساتھی کا درد اپنی روح کے اندر محسوس نہیں کرتے تو سمجھو کہ تم اس عشقِ وطن سے اب تک آشنا نہیں ہو۔ اگر تم اپنی سنگت میں اپنی زندگی کے ہر لمحے کو محسوس نہیں کر رہے تو سمجھو کہ تم اب تک انقلاب کے حقیقی عشق سے ناواقف ہو۔ کیونکہ عشقِ وطن میں آپ کی روح جدوجہد کے تمام ساتھیوں اور شہدا کے اندر بسی ہوتی ہے۔ پھر تم سانس تو لے رہے ہوتے ہو لیکن محسوسات تمہاری ذات سے وابستہ نہیں ہوتے، تمہیں اپنی کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اگر تم اس کیفیت سے آشنا نہیں ہو، اگر تمہیں اب بھی موت کو دیکھ کر پریشانی ہو رہی ہے، اگر تم دشمن کے سامنے کھڑے ساتھی کے دل میں موجود جذبے اور احساس کو سمجھنے میں دشواری محسوس کر رہے ہو تو سمجھو کہ تم اب بھی فلسفہ قربانی سے آشنا نہیں ہو۔ اگر وطن سے عشق کا درد آپ کو ستاتا نہیں، اگر آپ کے ضمیر کو ہر لمحے جھنجھوڑ نہیں رہا ہے تو سمجھو کہ تم اب بھی زمین کے عشق کے فلسفے سے دور ہو۔
کسی تنظیم کا حصہ بننے، بندوق ہاتھ میں لینے، دشمن پر چار گولیاں برسانے، تقریر کرنے یا میری طرح چند الفاظ جوڑ دینے کا نام انقلاب نہیں، جدوجہد نہیں، فلسفۂ قربانی نہیں، بے غرضی اور وطن پر فنا ہونے کا نام نہیں۔ بلکہ انقلاب، جدوجہد، تحریک، تنظیم، قوم، جہدِ آزادی اور عشقِ وطن، یہ سب جذبات، احساسات، ذمہ داری، محنت، درد کے احساس اور اپنے وجود و ضمیر کے اندر موجود کردار کا نام ہیں۔ تم اپنے ضمیر کے اندر تحریک، تنظیم، جدوجہد اور ساتھی سرمچار کو کیا سمجھتے ہو؟ تم اس کا کتنا احساس رکھتے ہو؟ اس کی انتہا کو کس حد تک سمجھتے ہو؟ اپنے ضمیر کے اندر تم وطن کے لیے کتنے بے غرض ہو، تمہاری پہچان یہی ہے۔ ایک انقلابی انسان اپنے کردار کی حقیقت سے سب سے زیادہ خود آشنا ہوتا ہے۔ یہ بناوٹی نہیں ہو سکتا۔ یہ کوئی اکیڈمک ریسرچ یا کوئی اسکل سیکھنے کا نام نہیں ہوتا بلکہ یہ اپنے اندر موجود انسان کی حقیقت کی نشاندہی کا نام ہے۔
ایک نوجوان دشمن کے کیمپ کے اندر کیا سوچ کر جا رہا ہے؟ کیا اسے اس بات کا علم نہیں کہ دشمن کا اسنائپر اس کے سر کی تاک میں بیٹھا ہوا ہے؟ کیا وہ اس شعور سے لاعلم ہے کہ چند لمحوں بعد میری لاش دشمن کے کمپاؤنڈ کے اندر کسی برآمدے کے نیچے پڑی ہوگی؟ کیا رات کو حملے کے لیے نکلتے وقت اس نے یہ خیال نہیں کیا ہوگا کہ جب میری لاش لینے میری فیملی آئے گی تو انہیں تذلیل کا نشانہ بنایا جائے گا؟ یا میرے فنا ہونے کے بعد میرے گھر والوں میں سے کسی کو اٹھا کر لاپتہ کیا جا سکتا ہے اور اسے بھی مار دیا جائے گا؟ کیا وہ یہ نہیں سوچ رہا کہ اگلے دن میری لاش کی تصویر کسی پنجابی اکاؤنٹ سے شائع ہو کر میرے بچے کی آنکھوں کے سامنے آ سکتی ہے؟ یا میری دل کی مریضہ ماں کو میری شہادت کا جھٹکا اتنا شدید لگ سکتا ہے کہ وہ بھی اگلے دن ہمیشہ کے لیے اس زندگی سے رخصت ہو سکتی ہے؟ کیا وہ یہ نہیں سوچ رہا کہ میرے بعد میرے بچے بھوکے پیاسے دربدر ہو سکتے ہیں؟ یا میرا جیون ساتھی، جو میری انتظار میں بیٹھا ہے اور جس کے ساتھ میں نے پوری زندگی ساتھ گزارنے کا وعدہ کیا تھا، وہ ہمیشہ کے لیے اکیلا ہو سکتا ہے؟
وہ یہ سب کچھ سوچ رہا ہوتا ہے، لیکن پھر بھی عشقِ وطن، وطن سے محبت، قومی آزادی کا جنون اور جذبہ اسے ہر مقام پار کرنے کے لیے تڑپاتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ جان کر بھی فنا ہونے کی غرض سے اور دشمن پر قہر برسانے کے عزم کے ساتھ کیمپوں کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ سمجھ کر بھی فلسفہ قربانی کو اپنی زندگی میں سب سے مقدم رکھتے ہوئے ہر اس انتہا تک جاتے ہیں جہاں پہنچنے کا تصور بھی عام انسان کے لیے بہت دور ہوتا ہے۔
کیونکہ ایک حقیقی انقلابی بے غرض ہوتا ہے۔ وہ صرف زمین کا ہوتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں، اس کے چہرے پر، اس کی باتوں میں، اس کے خیالوں میں صرف مہر، وطن اور سنگت ہوتے ہیں۔ وہ محض انسان نہیں رہتا بلکہ ایک مہر بن جاتا ہے جو وطن پر قربان ہونے کے انتظار میں تڑپ رہا ہوتا ہے۔ جب آپ بے غرض بن جاتے ہیں تب ہی آپ کے انقلابی کردار کی تشکیل کا عمل شروع ہوتا ہے، اور جب تک آپ بے غرض ہو کر وطن پر نچھاور نہیں ہوتے، جب تک آپ اپنی زندگی کے کسی بھی حصے میں اپنے لیے کچھ سوچ رہے ہیں، اپنے لیے کچھ خیال کر رہے ہیں، تب تک اس جنگ میں رہنا اور اس کے سرمچاروں کا حقیقی سرمچار بننا یقینا بہت دور کی بات ہے۔
سرمچاری کا مقام حقیقی جہدکاروں نے اس حد تک بلند کر دیا ہے کہ اب بندوق لے کر چند گولیاں چلانا بھی سرمچاری کے مقام تک پہنچنا نہیں رہا۔ یہاں حقیقی سرمچار وہی کردار ہیں جو بے غرض ہیں، جو مر رہے ہیں لیکن زندگی کی بنیاد رکھ رہے ہیں، جو لڑ رہے ہیں، فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں، مگر واپس جانے اور دوبارہ زندگی گزارنے کے لیے نہیں بلکہ اس زمین اور اس کے عشق میں ہمیشہ کے لیے وطن پر فنا ہونے کی غرض سے لڑ رہے ہیں۔ ان کے لمحے میں پوری زندگی موجود ہوتی ہے، جہاں آپ ہر ایک لمحے کو سو سال کی زندگی کے طور پر جی سکتے ہیں، جہاں زندگی مکمل ہو جاتی ہے۔ جب تک آپ اپنی زندگی کو مکمل نہیں سمجھتے، یقین کرو تم انقلاب کے مقام تک نہیں پہنچے ہو۔ تمہارے لیے اس وقت بھی انقلاب اور جدوجہد حالات کی پیداوار ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































