پنجگور سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ طالب علم کی جبری گمشدگی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے تنظیم نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم “پانک” کے مطابق پنجگور، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم ذاکر نور کو 30 دسمبر 2025 کو کراچی میں ریاستی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ذاکر نور کو کسی وارنٹ، قانونی جواز یا ضابطہ کار کے بغیر حراست میں لیا گیا اور اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
پانک کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ذاکر نور کی نامعلوم مقام پر منتقلی ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے تحت بنیادی انسانی حقوق، خصوصاً جبری گمشدگی اور من مانی حراست سے تحفظ، کی خلاف ورزی ہے۔
تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ عرصے میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر بڑے شہروں جیسے کراچی میں۔

















































