بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6078ویں روز میں داخل ہو گیا۔
اس دوران مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے لاپتہ بلوچوں کے ماورائے قانون قتل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جبری لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پنجگور اور دکی سے تعلق رکھنے والے چار بلوچ نوجوانوں کو جبری گمشدگی کے بعد ماورائے عدالت قتل کر کے ان کی لاشیں پھینک دی گئیں، جن کی شناخت محمد فرید بلوچ، محمد انور بلوچ، پزیر بلوچ اور کریم جان کے ناموں سے ہوئی ہے۔
ان کے لواحقین کے مطابق ان نوجوانوں کو گزشتہ سال اور رواں سال مبینہ طور پر ملکی اداروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا، بعد ازاں ان کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔
نصراللہ بلوچ نے کہا کہ چار جبری لاپتہ بلوچ نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی وہ شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری لاپتہ بلوچوں کے ماورائے قانون قتل کا فوری نوٹس لیا جائے، غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو ملکی قوانین کے تحت انصاف فراہم کیا جائے۔



















































