مسقط: بلوچی زبان کے شاعر مجید عاجز انتقال کر گئے

80

بلوچی زبان کے معروف اور مقبول نوجوان شاعر مجید عاجز آج جمعہ کی صبح مسقط، عمان میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی تصدیق ان کے ایک قریبی دوست نے کی ہے۔

مجید عاجز کا تعلق بالیچاہ سے تھا اور وہ بلوچی شاعری میں اپنی انقلابی رنگ میں ڈھلی رومانوی شاعری کے باعث نوجوان نسل میں غیر معمولی مقبولیت رکھتے تھے۔ مختصر عرصے میں انہوں نے ایک مضبوط ادبی شناخت قائم کی اور ان کے اشعار سوشل میڈیا اور ادبی حلقوں میں وسیع پیمانے پر پڑھے اور سنے جاتے تھے۔

ذرائع کے مطابق مجید عاجز گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے سیاسی حالات کی خرابی کے باعث جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی اچانک وفات کو بلوچی ادب اور شاعری کے لیے ایک بڑا اور اندوہناک نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

ادبی حلقوں اور چاہنے والوں کی جانب سے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہےجب کہ ان کی خدمات کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔