گوادر: جبری گمشدگی کا شکار رہنے والا نوجوان سرکاری حمایت یافتہ مسلح گروہ کے ہاتھوں قتل

51

بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں ایک نوجوان کو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے قتل کر دیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مقتول اس سے قبل پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار رہ چکا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ضلع کیچ کے علاقے دشت شولی سے تعلق رکھنے والے کمال ولد حاجی داد محمد کو جمعرات کے روز جیونی کے قریب اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جب وہ کنٹانی ہور سے گوادر کی جانب جا رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی میں سوار تھے اور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں کمال موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ علاقائی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حالیہ حملے میں ملوث افراد کا تعلق ایک سرکاری حمایت یافتہ مسلح گروہ سے ہے، جسے مقامی سطح پر ’ڈیتھ اسکواڈ‘ کہا جاتا ہے۔

بلوچستان میں قوم پرست حلقے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ایسے مسلح گروہوں کے وجود کا الزام عائد کرتی رہی ہیں، جن پر لاپتہ افراد اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہونے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق کمال بلوچ کو اکتوبر 2024 میں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً دو ماہ تک لاپتہ رہے، جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔

رہائی کے بعد، جب وہ گوادر کی ایک عدالت میں پیشی کے لیے جا رہے تھے تو فقیر کالونی کے علاقے میں ان پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھی اہلِ خانہ نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔