نوشکی: پاکستانی فورسز کی جانب سے گھروں کی مسماری، عوامی حلقوں میں تشویش

58

بلوچستان کے شہر نوشکی میں کئی روز سے کرفیو برقرار ہے، جہاں پاکستانی فورسز کی بڑی تعداد میں پیش قدمی جاری ہے۔ فورسز نے شہر میں تمام دکانیں بند رکھنے اور شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کئی گھروں کو مسمار کیا گیا ہے، جبکہ آبادی میں فورسز کی بھاری نفری کی موجودگی کے باعث مقامی افراد کو ہراسانی کا سامنا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سابق سینیٹر ثناءاللہ بلوچ نے کہا ہے کہ نوشکی میں پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن حاجی بہادر خان مینگل کے مہمان خانے کی مسماری اور ہندو برادری کو ہراساں کیے جانے کے عمل کی وہ سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ فورسز کی اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف سیاسی روایات کے منافی ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان کے بقول، سردار عزیز احمد کے خاندان کی قربانیاں اور عوامی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، اور انہی گھروں نے ہمیشہ قبائلی اقدار اور عوامی فلاح کی مثبت روایات کو فروغ دیا ہے۔ ہندو برادری کے گھروں کے خلاف اقدامات انتہائی افسوسناک اور قابلِ تشویش ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک طرف فارم 47 کے تحت قائم حکمران عوامی خدمت کے بلند دعوے کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب سیاسی کارکنوں، قبائلی عمائدین اور عام شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے، سیکیورٹی کے نام پر کی جانے والی زیادتیاں بند کی جائیں، اور ایسی پالیسیوں سے گریز کیا جائے جو نفرت اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہیں۔

حاجی بہادر خان مینگل اور ان کے خاندان کی جمہوری و سیاسی جدوجہد سب پر عیاں ہے۔ ہندو برادری کے خلاف امتیازی رویے اور اقدامات فوری طور پر ختم کیے جائیں۔

علاوہ ازیں سابق سینیٹر یوسف بادینی نے کہا کہ سردار عزیز احمد مینگل مرحوم کے فرزندان، سابق ضلعی ناظم حاجی میر بہادر خان مینگل اور موجودہ ضلعی چیئرمین میر محمد علی خان مینگل کے مہمان خانے کو مسمار کرنا ایک قابلِ تشویش اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاجی میر بہادر خان مینگل بلوچستان کے معتبر اور عوام دوست سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کا قبائلی تنازعات کے خاتمے میں اہم کردار رہا ہے۔ انہیں بلاجواز ہراساں کرنا مناسب عمل نہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستانی فوج نے بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب بلوچ سمیت دیگر افراد کے آبائی گھروں کو بھی مسمار کیا تھا۔

واضح رہے کہ 31 جنوری کو بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن “ھیروف” کے تحت دیگر اضلاع کی طرح نوشکی پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جہاں وہ چھ روز تک اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

بی ایل اے نے چھ روز بعد آپریشن کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس دوران انہوں نے پاکستانی فوج کے متعدد کیمپس اور آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، جبکہ جھڑپوں میں درجنوں اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا۔