انعام و اشتہارات، حکومتی ناکامی کا برملا اظہار! – حمل بلوچ

48

انعام و اشتہارات، حکومتی ناکامی کا برملا اظہار!

تحریر: حمل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان حکومت سمیت تمام پاکستانی سیاستدان جو کہ بلوچ آزادی پسند رہنماؤں کے بارے میں بڑے بڑے باتیں کرتے ہوئے بڑی آسانی سے یہ کہہ دیتے تھے کہ “کوئی بھی دہشتگرد ہمارے نظروں سے نہیں چھپ سکتا” یا کبھی یہ کہہ کر عوام کو اپنی فریب کی بیانیے میں پھنس گئے جو بے سود کوشش کرتے کہ “دہشتگرد یعنی آزادی پسند ایک ایس ایچ او کی مار ہے” آج ان کا یہ بیانیاتی مصنوعی عمارت اپنے ہی ایک اشتہار کی وجہ سے زمین بوس ہوکر اپنی موت مر گئی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جس حکومت کے پاس اپنے سرکاری ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہ نہیں وہ پچیس کروڑ روپے ایک فرد کا کیسے دے سکتی ہے؟ حکومت کی حالات اور بیانات میں اتنی تضادات پائے جاتے ہیں کہ اب ہر شخص حکومتی بیان بازی سے بےزار ہوکر سر جھٹکنے لگتا ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وفاق اور بلوچستان حکومت کی دروغ گوئی اور پروپیگنڈا کرنے والی بیانیات اس وقت کمزور اور بےبس دکھائی دینے لگی جب حکومت نے ہزاروں پروپیگنڈوں اور بیانیہ سازی کے بعد بےبسی کی حالت میں کوئٹہ کے تمام بڑے اخباروں میں ایک اشتہار چھپوایا جس میں بلوچستان لبریشن آرمی کے کمانڈر ان چیف بشیر زیب، سیکنڈ کمانڈ رحمان گل و دیگر بلوچ آزادی پسند و سیاسی قائدین کا نام و تنظیمی حرف کے ساتھ ان کے سر پر رکھی گئی انعام موجود تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اشتہار نہیں بلکہ حکومتی ناکامی اور بےبسی کا اعلان ہے کہ بلوچستان آزادی پسند حکومتی اراکین کے درمیان بیٹھ کر اپنی قومی شناخت اور قومی جدوجہد کے لیے جہد مسلسل کئے ہوئے ہیں اور حکومت خواب خرگوش میں ہے۔

حکومتی ناکامی اور نالائقی کا یہ پہلا عندیہ نہیں بلکہ 31 جنوری حملوں کے بعد کمانڈر ان چیف بشیر زیب بلوچ کے خالی مکان کی بھس مارنے اور دھماکوں سے اڑانے کا عمل بھی خود ایک نفسیاتی ہار کا ثبوت ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت وقت کو ایک خالی مکان سے بھی خوف و ہراس ہوتا ہے۔ خالی مکان اور اب عوامی سہارے کی تلاش! ناکامی نہیں تو کیا ہے؟

اشتہارات چھپوانے اور ان حرکات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت، بلوچ آزادی پسند رہنماؤں تک پہنچنے میں بڑی حد تک ناکام ہوچکی ہے جنہیں تلاش کرنے کے لیے اب عوامی سہارے کی ضرورت پڑگئی ہے مگر سوال یہ ہے کہ وہ عوام جو بشیر زیب بلوچ کی موٹر سائیکل سوار ویڈیو پر اپنی تمام محبت و وفا نذر کر رہی تھی، وہ عوام جو بلوچستان لبریشن آرمی کے جنگجوؤں کے ہاتھوں سے بوسے لے رہی تھی، اپنے ہیروز اور محافظین کا پتہ چند پیسوں کے عوض دینا پسند کریں گے؟

حکومتی ناکامی اور نالائقی کا ایک اور بڑا ثبوت یہ ہے کہ اشتہار میں دیے گئے اکثر مطلوب مجرمان سیاسی شخصیات ہیں اور گراؤنڈ پر موجود ہیں جبکہ چند ایک دو جو کہ آزادی پسند تحریکوں سے جڑے ہوئے ہیں، کے والد کے نام یا تو اصل تصاویر یا تنظیمی نام غلط درج کئے گئے ہیں جس کا مطلب حکومت بھی عوام کی طرح سنے سنائی نام اور باتوں کو لے کر اشتہار بناتی ہے نہ کہ ان کے پاس کوئی صاف واضح اور اچھی معلومات موجود ہے۔

اس تمام صورتحال سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی ناکامی اور نااہلی چھپانے کے لیے عوامی سہارا لینے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ بےسود ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ حکومتی سابقہ دعوؤں اور بیانات میں کوئی صداقت نہیں اور وہ سب ایک بیانیاتی جنگ کے طور پر بنے بیانئے تھے جن پر کان دھرنا کوئی عقلیمندی نہیں۔ اب حتمی طور پر یہ کہنا درست ہے کہ بلوچستان میں حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے جہاں حکومت کو اپنے بغل میں بیٹھے آزادی پسندوں کے صحیح نام و حرف تک نہیں معلوم وہی آزادی پسند حکومتی ملحوزہ علاقوں “ریڈ زون” تک بآسانی سے پہنچ کر فدائی حملے کرسکتے ہیں۔

یعنی اب یقیناً کہا جاسکتا ہے کہ حکومت پاکستان جو کہ بلوچستان پر ایک قابض اور نوآبادیاتی شکل میں موجود ہے اپنی تمام تر صلاحیتوں سے محروم ہوچکی ہے اور اپنا رٹ کھو چکی ہے


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔