بی وائی سی کی تنظیمی قیادت کے ضمانتی مقدمات عدالتی تاخیر کا شکار

35

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہاکہ 17 دسمبر 2025 کو ہائی کورٹ میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر قیادت کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ دفاع نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جبکہ استغاثہ مسلسل حراست کو جائز قرار دینے کے لیے کوئی ٹھوس شواہد یا حقائق پیش کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اب تین ماہ گزر چکے ہیں، مگر تاحال کوئی فیصلہ سنایا نہیں گیا۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں محفوظ شدہ ضمانتی مقدمات میں عموماً فیصلے چند دنوں یا ہفتوں کے اندر سنا دیے جاتے ہیں۔ تاہم کیس نمبر 89/25، 05/25، 28/25، 19/25 اور 92/25، جن کی سماعت جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل نے کی، میں غیر معمولی تاخیر عدالتی عمل کی خودمختاری اور شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

مزید کہاکہ یہ تاخیر محض ایک قانونی یا انتظامی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ بنیادی حقوق، شخصی آزادی اور عدلیہ پر عوامی اعتماد سے براہِ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب پُرامن سیاسی کارکنان بغیر شواہد اور بروقت عدالتی فیصلے کے بغیر حراست میں رکھے جاتے ہیں تو یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ قانونی ادارے اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

آخر میں کہاکہ عدلیہ کو چاہیے کہ وہ شفافیت، خودمختاری اور بلا خوف و رعایت اپنے آئینی فرائض انجام دے۔
بلوچستان کے عوام اور تمام وہ شہری جو آئینی حقوق پر یقین رکھتے ہیں، ایک واضح اور بروقت فیصلے کے مستحق ہیں۔