اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل نے اپنے رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ کیچ میں بلوچ لبریشن آرمی کے مجید برگیڈ کے حملے میں 32 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھیں۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کیچ کے علاقے دشت میں سی پیک روٹ پر بی ایل اے کی مجید برگیڈ نے پاکستانی فوج کے چھ بسوں و تین فوجی گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا جہاں خودکش کار بم دھماکے کے بعد بھاری ہتھیاروں سے لیس مسلح افراد نے دیگر بسوں میں سوار اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
واضح رہے پاکستان فوج نے مذکورہ حملے محض پانچ فوجی اہلکاروں کے ہلاکت کی تصدیق کی تھ۔
جبکہ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے زمینی ذرائع اور انٹیلی جنس ونگ “زراب” کے مطابق اس حملے میں پاکستانی فوج کے کم از کم 32 اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں، جن میں کئی افسران بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال بلوچ لبریشن آرمی کی مجید برگیڈ نے تربت، بولان، نوشکی اور کیچ میں چار مہلک حملے کیئے جن میں بڑی تعداد میں پاکستانی فوج کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ مذکورہ حملوں میں جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنا اور اس میں سوار دو سو سے زائد فوجی اہلکاروں کی گرفتاری شامل ہے۔















































