بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مزید 4 افراد پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ

47

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پاکستانی فورسز کی جانب سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں مزید پانچ افراد کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 3 فروری 2026 کو شام تقریباً 6:30 بجے پاکستانی فورسز نے امداد سید ولد سید محمد، عمر 25 سال، سکنہ بالگتر کو کوہِ مراد زیارت، تربت (کیچ) سے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا۔

2 فروری 2026 کو رات تقریباً 2:00 بجے پاکستانی فورسز نے الیاس بلوچ ولد میر سلطان ملازئی، سکنہ کلی غزگی، مستونگ کو ان کے گھر سے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا۔

29 جنوری 2026 کو رات تقریباً 1:00 بجے پاکستانی فورسز نے افضل ولد سولی، عمر 22 سال، سکنہ ڈکی بازار آپسر، تربت (کیچ) کو ان کے گھر سے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا۔

10 فروری 2026 کو شام تقریباً 6:30 بجے پاکستانی فورسز نے یاسر لہڑی ولد عبداللہ لہڑی، عمر 26 سال، سکنہ خردان، قلات کو مغل زئی مین آر سی ڈی روڈ، قلات سے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے اور تاحال ان کے اہلخانہ کو ان کی حالت یا مقام سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔ اہلخانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان افراد پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔