کراچی اور بلوچستان میں مزید چار بلوچ افراد کی جبری گمشدگیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، کراچی کے علاقے فقیر کالونی کے رہائشی میر بالاچ ولد غلام جان کو 7 فروری 2026 کو دبئی سے کراچی پہنچنے پر کراچی ایئرپورٹ پر ویزا کی تفتیش کے بہانے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔
لواحقین کے مطابق میر بالاچ دبئی میں بطور مزدور کام کر رہے تھے اور شادی کرنے اور تعطیلات منانے کے لیے وطن واپس آئے تھے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ چند گھنٹے گزرنے کے بعد جب انہوں نے ایئرپورٹ انتظامیہ سے میر بالاچ کے بارے میں دریافت کیا تو متعلقہ حکام نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق 7 فروری 2026 کے بعد سے میر بالاچ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خاندان نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور میر بالاچ کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر، 2 فروری کو مستونگ کے علاقے لک پاس سے پاکستانی فورسز نے داود لہڑی ولد محمد اعظم لہڑی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا۔
اسی طرح، 9 فروری کو کوئٹہ کے علاقے سریاب سے پاکستانی فورسز نے شہروز بلوچ ولد عبید اللہ کو ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
علاوہ ازیں، 8 فروری کو حب چوکی سے جھاؤ کے رہائشی نادل علی ولد خیر محمد کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا ہے۔
















































