دہشت وحشت اور بسنت کا جنون – انور ساجدی

80

دہشت وحشت اور بسنت کا جنون

تحریر: انور ساجدی

دی بلوچستان پوسٹ

جب لاہور میں بسنت کا جشن عروج پر تھا تو ریکوڈک مائنز کے نصف حصے کی مالک کمپنی بیرک گولڈ کے سربراہ نے اعلان کیا کہ تازہ صورتحال کے پیش نظر منصوبے پر سرمایہ کاری روکنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ شہرہ آفاق نیوز ایجنسی رائٹرز نے خبر دی ہے کہ بیرک گولڈ کے چیف ایگزیکٹو مارک ہل نے بورڈ میٹنگ میں کہا کہ علاقے میں حال ہی میں جو واقعات ہوئے ہیں ان کی وجہ سے نظرثانی کی ضرورت پیش آ گئی کیونکہ سیکورٹی کے خدشات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ اجلاس میں یہ کہا گیا کہ کچھ عرصہ کے بعد صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا جس کی روشنی میں نیا فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ خبر ایسی ہے کہ اس پر تبصرے کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ خبر بذات خود ایک تبصرہ ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ تخت لاہور اور تخت اسلام آباد ریکوڈک سے بہت دور ہیں اس لیے یہاں پر جو بھی ہو جیسے بھی واقعات وقوع پذیر ہوں ان کی شدت اور حرارت وہاں تک محسوس نہیں کی جا سکتی۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ جب میاں محمد شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے طالبان سے ایک اپیل کی تھی کہ وہ پنجاب کو نشانہ نہ بنائیں یعنی اگر ملک کے باقی حصے دہشت اور وحشت کی زد میں آئیں تو کوئی بات نہیں، پنجاب کو نشانہ بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ خیر سے اب تو شہباز شریف پورے ملک کے وزیراعظم ہیں اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کی دہشت گردی اور سیکورٹی کو چیلنج کرنے والے واقعات کو روکیں اور ان کا سدباب کریں لیکن پاکستان میں یہ قدیم روایت ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ پر ہی شور شرابا مچایا جاتا ہے، تندوتیز بیانات جاری کیے جاتے ہیں جیسے ہی واقعہ پرانا ہو جاتا ہے اور لوگ بھول جاتے ہیں تو سب اچھا ہے کی رٹ شروع کر دی جاتی ہے۔

لاہور میں بسنت کا جشن اس وقت پھیکا پڑ گیا جب داعش نے یا کسی اور تنظیم نے اسلام آباد کے قریب واقع امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ کر دیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق خودکش پاکستانی شہری تھا اور افغانستان آتا جاتا تھا۔ غالباً سرحدوں کی بندش سے قبل یہ حملہ آور آتا جاتا ہوگا۔ اب تو کوئی چڑیا بھی داخل نہیں ہو سکتی۔ امام بارگاہ پر حملہ دراصل بسنت کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کے مترادف ہے۔

لاہور اور اسلام آباد کے نامور صحافی اور وی لاگرز آج سے اپنے پروگرامز میں طرح طرح کے نقطے اور تاویلات سامنے لائیں گے۔ حال ہی میں مشہور و معروف اور مایہ ناز قوم پرست صحافی جاوید چوہدری نے اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا تھا کہ کوئٹہ کے قریب پہاڑ نہیں ہیں اور یہ شہر پہاڑوں سے بہت دور ہے۔ 1996 کا واقعہ ہے کہ گڈانی میں حب کو پاور کا افتتاح تھا، صدر لغاری مہمان خاص تھے۔ اس وقت کے قوم پرست، اسلام پسند اور مشہور صحافی عبدالقادر حسن مرحوم نے ایک کالم لکھا تھا جس میں انہوں نے اطلاع دی تھی کہ صدر کا دعوت نامہ ملا میں بھی چاہتا تھا کہ وہاں جاؤں۔ اشتیاق یہ تھا کہ حب سے پیدل ٹہلتے ہوئے گوادر نکل جاؤں جو قریب واقع ہے۔ افسوس کہ عبدالقادر حسن کا جانا نہ ہوا ورنہ وہ حب کے قریب گوادر ضرور دریافت کر لیتے۔

بی بی سی کا مشہور پروگرام ہے جس میں اینکر لاہور کے شہریوں سے سوالات پوچھ رہے ہیں اور وہ بلوچستان سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ وجہ وہی ہے کہ بلوچستان لاہور سے بہت دور ہے، پسماندہ اور ناکارہ ہے اس لیے وہاں کے لوگوں کو اس کے بارے میں جاننے کی کیا ضرورت ہے۔ لاہور اسلام آباد تو دور کی بات اگر چھوٹے شہروں، گاؤں اور دیہات کے لوگ تو اس نام سے واقف ہی نہیں ہیں۔ اس کے برعکس وہ امرتسر، جالندھر، لدھیانہ، انبالہ اور دیگر علاقوں سے زیادہ واقف ہیں کیونکہ ان کے روٹس وہاں پر موجود ہیں۔

ایک کام یہ ضرور ہوا ہے کہ حالیہ افسوسناک واقعات نے نامور صحافیوں، اینکر حضرات اور وی لاگرز کو ایک پیج پر لا کر متحد کر دیا ہے اور انہوں نے ایک قومی بیانیہ اپنایا ہے۔ گرو حسن نثار سے لے کر جاوید چوہدری، ابصار عالم، رضی دادا اور حامد میر تک ایک ہی لڑی میں پروئے نظر آتے ہیں۔ حامد میر تو بہت بڑا انکشاف لے کر آئے کہ ایک اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا ہے کہ دہشت گردوں کو ہماری حمایت حاصل ہے۔ چند دن قبل تک حامد میر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری اور ان کے خلاف ناانصافیاں اجاگر کر رہے تھے لیکن پلٹا ایسا کھایا کہ کل کلاں یہ کہہ بیٹھیں گے کہ دراصل اسرائیل کا رابطہ ایمان مزاری کے ہی ذریعے تھا۔

جذبہ حب الوطنی کی ایسی لہر آئی ہوئی ہے کہ تمام صحافی بسنت اور پتنگ بازی کے گن گانے لگے کیونکہ بی بی مریم یہی چاہتی تھیں۔ خوشیوں کے رنگ میں رنگ جانا زندہ دلان لاہور کی پرانی روایت ہے۔ اگر مریم بی بی یہ اعلان کریں کہ ہولی پنجاب کا قدیم تہوار ہے اس لیے یہ منایا جائے گا تو نامور صحافی ہولی کے گن گانا شروع کر دیں گے۔ حال یہ ہے کہ پنجاب کے دانشور اپنے صوبے کے نام سے ناواقف ہیں۔ ”پنج آب“ تو فارسی کا لفظ ہے اور یہ نام مغلوں نے یا سینٹرل ایشیا سے آنے والے قبضہ گیروں نے رکھا۔

تحریک تو یہ شروع ہونی چاہیے کہ پنجاب کا تاریخ میں جو بھی نام تھا وہ بحال کیا جائے اور جو قوم پنجابی کے نام سے موجود ہے وہ اپنے قدیم اور تاریخی نام کی طرف لوٹ جائے۔ اصل قوم پرستی تو یہی ہے۔ یہ جو اسلامی ملمع کاری ہے یہ دنیا کو دکھانے کے لیے ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ راجہ رنجیت سنگھ، سندھو رائے، احمد خان کھرل، دلا بھٹی اور بھگت سنگھ کو قومی ہیرو قرار دیا جائے۔ یہ جو دشمن ملک کے لوگوں کو ہیرو بنایا ہوا ہے یعنی غزنوی، غوری اور ابدالی انہیں ترک کر دینا چاہیے۔

یہ تو انگریزوں نے ہندوستان کو غلط طور پر تقسیم کیا تھا ورنہ پنجاب کا روحانی مرکز امرتسر اور سیاسی مرکز لاہور ہوتا۔ آج بھی پنجابی دانشوروں کے ذہنوں میں یا لاشعور میں گریٹر پنجاب نہ بننے کی خلش موجود ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ پورے کا پورا کشمیر پنجاب کا حصہ بن جائے جیسے کہ رنجیت سنگھ کے دور میں تھا اور دونوں پنجاب مل کر اپنی تشکیل پوری کریں تب بات اطمینان کی ہوگی۔ غالباً وہ یہ بھی چاہیں گے کہ رنجیت سنگھ نے جہاں جہاں تک قبضہ کیا تھا کے پی کے کے اس علاقے پر بھی پنجاب کا حق ہے۔

بھٹو صاحب کے دور کا قصہ ہے کہ ایک عظیم پنجابی دانشور تھے راجہ رسالو۔ وہ کہتے تھے کہ دریائے سندھ جہاں تک بہتا ہے وہ گریٹر سپت سندھو ہے اور پنجابی قوم اس کی مالک و مختار ہے۔ ان کے ساتھی پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر فخر زمان چونکہ سیاسی آدمی تھے وہ بات گھما پھرا کرتے تھے لیکن ان کا خیال بھی یہی تھا۔ دونوں دانشور متمن تھے کہ یہ جو سرائیکی اور ہندکو زبانیں ہیں وہ قدیم پنجابی کے ماخذ ہیں کوئی علیحدہ زبانیں نہیں ہیں۔ فخر زمان کا دعویٰ تھا کہ ”ویدوں“ کی جو زبان قدیم سنسکرت تھی اس کی باقیات کوئی اور زبان نہیں بلکہ پنجابی ہے۔ وہ آگے بڑھ کر یہ کہتے تھے کہ ہڑپہ تہذیب کی جو زبان تھی وہی آج کی پنجابی زبان کی ماں تھی۔

ہمارے بٹ صاحب آج بھی یہ کہتے ہیں کہ پنجابیوں کی آبادی 65 فیصد ہے تو راج بھی انہی کا ہونا چاہیے۔ بھلا ایک کروڑ بلوچستانی 13 کروڑ لوگوں کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں لہٰذا یہاں پر برابری کی بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ اسی تفاخر کی وجہ سے پنجاب کے حکمران، دانشور اور صحافی تین صوبوں کے لوگوں کو کمتر سمجھتے ہیں۔ 50 سال پہلے جب ہم پنجاب جاتے تھے وہاں کے صحافی ایک ہی سوال پوچھتے تھے کہ بھائی یہ بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے؟ آج 50 سال کے بعد جب معروف صحافی اور وی لاگرز بایزید خان خروٹی پنجاب گئے ہیں تو صحافیوں نے وہی سوال پوچھا ہے۔ بایزید خان چونکہ بردبار اور صبروتحمل والے نوجوان ہیں اس لیے یقیناً انہوں نے اپنے انداز میں جواب دیا ہوگا۔ ہم تو عاجز اور بیزار آ گئے تھے۔

حالات کے تناظر میں پنجاب کے سیاستدان اور صحافی یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ سی پیک کا کیا بنا، یہ ریکوڈک کا کیا بنے گا، گوادر گھوسٹ سٹی کیوں بنا ہوا ہے اور گوادر ایئرپورٹ کیوں چالو نہیں ہوا لیکن یہ سوال تو اہل پنجاب اور وہاں کے حکمرانوں سے بنتا ہے۔ بلوچستان کے لوگ تو نہ تین میں نہ تیرہ میں وہ بذات خود سوال بن گئے ہیں وہ کیا جواب دیں گے۔

بہرحال خدا غارت کرے دہشت گردوں کا انہوں نے اسلام آباد کو نشانہ بنا کر بسنت کے جشن کو قدرے پھیکا کر دیا۔ اس کے باوجود ”بکاؤٹا“ جاری ہے اور اس شور میں محمود خان اچکزئی کی 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال دم توڑ دے گی کیونکہ آج کی رات بسنت کے جنون کی اختتامی رات ہوگی۔

یہ تیری دو ٹکی کی نوکری
یہ میرا لاکھوں کا سودا کیوں جائے


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔