بلوچ لبریشن آرمی نے 31 جنوری کو آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے کے تحت کوئٹہ کے حساس علاقے ریڈ زون میں خودکش حملہ کرنے والی فدائی کی ویڈیو اور شناخت اپنے میڈیا چینل “ہکل” پر جاری کردی ہے۔
تنظیم نے حملہ آور کی شناخت مستونگ اسپلنجی کے رہائشی قدرت اللہ کرد عرف مجید ولد بدل خان کرد کے نام سے کی ہے۔
ویڈیو میں حملہ آور کو زخمی حالت میں دکھایا گیا ہے، جو کوئٹہ شہر پر قبضے کے دوران جھڑپوں میں زخمی ہوئے تھے۔ بی ایل اے کے مطابق، فدائین قدرت اللہ شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنے مشن کو کامیابی سے مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔
بی ایل اے نے فدائی حملہ آور کے حوالے بتایا ہے کہ شہید فدائی قدرت اللہ کرد عرف مجید بلوچ ان نوجوانوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی زندگی کا سفر مختصر ضرور ہوتا ہے، مگر اس کی معنویت طویل ہوتی ہے ان کی جدوجہد اس نسل کی نمائندگی کرتی ہے جو کسی حادثاتی جوش یا وقتی جذبے کے تحت نہیں بلکہ ایک واضح شعور اور فیصلہ کے ساتھ مزاحمت کا راستہ اختیار کرتی ہے۔
بتایا گیا کہ تنظیم سے وابستگی کے بعد قدرت اللہ نے نہایت کم عرصے میں اپنی سنجیدگی، ضبط اور ثابت قدمی کے ذریعے خود کو ایک ایسے کارکن کے طور پر منوایا جس پر مشکل ترین ذمہ داریاں سونپی جاسکتی تھیں، مجید بریگیڈ میں شمولیت محض عسکری تربیت کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ذہنی اور اخلاقی مرحلے سے گزرنے کے بعد حاصل ہونے والی ذمہ داری ہوتی ہے، اور قدرت اللہ نے یہ مرحلہ غیر معمولی پختگی کے ساتھ طے کیا۔
تنظیم کے مطابق آپریشن ہیروف کے دوران کوئٹہ میں ہونے والی جنگ ان کی زندگی کا آخری مگر سب سے نمایاں باب ثابت ہوئی، ریڈ زون کے قریب ریلوے اسٹیشن کے مقام پر انہوں نے گھنٹوں دشمن فورسز کے ساتھ لڑائی لڑی۔
“شدید جھڑپوں کے دوران انہیں گولی لگی مگر زخمی ہونے کے باوجود ان کے رویئے میں نہ عجلت تھی نہ اضطراب وہ ایک ایسے سکون کے ساتھ تھے جو صرف اسی شخص کے حصے میں آتا ہے جس نے اپنے فیصلے کے ساتھ مکمل صلح کرلی ہو۔”
بتیا گیا کہ ان کے آخری لمحات اس ویڈیو میں محفوظ ہیں بارود سے بھری گاڑی میں بیٹھے ہوئے وہ اپنے ساتھیوں کو مسکراتے ہوئے رخصت کرتے ہیں ان کے چہرے پر نہ خوف ہے نہ بے یقینی بلکہ ایک گہرا اطمینان ہے وہ اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں ہم ایک ساتھ ہیں، ہم آزادی تک ایک ساتھ ہیں، اسے (پاکستان) کو سلامت مت چھوڑنا۔
اس دوران انکے ایک ساتھی ان کے ماتھے پر بوسہ دے کر انھیں رخصت کرتا ہے، اور وہ سکون کے ساتھ اس گاڑی کو خود چلاتے ہوئے ریڈ زون کی جانب بڑھتے ہیں، جہاں وہ اپنے ہدف سے ٹکرا کر شہید ہوجاتے ہیں۔
تنظیم نے انکے حالات مزید بتایا کہ قدرت اللہ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیئے ان کے ان آخری لمحوں کو دیکھنا کافی ہے، مزاحمت کے میدان میں سب سے بڑی طاقت شور یا شدت نہیں بلکہ وہ خاموش یقین ہوتا ہے جو انسان کو اپنے انجام سے بے خوف کردیتا ہے ان کی مسکراہٹ اسی یقین کی علامت تھی۔
MONITORING
— Bàhot باھوٹ (@bahott_baloch) February 10, 2026
BLA media published the last movement of it’s fighter from #Quetta:
“Fidai Sangat Qudratullah alias Majeed Baloch delivers his final message to the nation before departing for his mission in Quetta’s Red Zone despite being injured.” pic.twitter.com/qSr96dOv2l
بی ایل اے کے مطابق ان کے کزن، شہید فدائی عبدالسلام عرف نصراللہ بھی اسی جدوجہد کا حصہ تھے اور شہید ہوئے، شہید فدائی قدرت اللہ کرد عرف مجید بلوچ کی زندگی اور شہادت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ مزاحمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتی بلکہ وہ اس لمحے میں بھی موجود ہوتی ہے جب ایک انسان اپنے فیصلے کے ساتھ مکمل سکون سے کھڑا ہو، تاریخ کی سب سے بلند آواز وہی خاموش مسکراہٹ ہوتی ہے جو انجام سے پہلے چہرے پر ٹہرجاتی ہے۔
واضح رہے کہ کوئٹہ ریڈ زون خودکش حملے میں ڈپٹی کمشنر پولیس سمیت بارہ سے زائد فورسز اہلکار ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد درجنوں مسلح افراد ریڈ زون تک پہنچے اور شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
بی ایل اے کے مطابق، آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے کے دوران بلوچستان کے چودہ شہروں میں حملوں میں ان کے 93 ساتھی شہید ہوئے، جن میں 50 فدائین شامل تھے، جبکہ اس دوران بی ایل اے نے 362 ایف سی، نیوی، آئی ایس آئی، سی ٹی ڈی اہلکاروں سمیت ڈیتھ اسکواڈ کے ارکان کو ہلاک کیا۔
تنظیم نے متعدد اہلکاروں کی گرفتاری کا بھی اعلان کیا ہے، جن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد بلوچ قومی عدالت میں فیصلہ سنایا جائے گا۔

















































