بی وائی سی کی مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے پر حکومتی نمائندوں کے متضاد، متزلزل اور غیر سنجیدہ بیانات نہ صرف ریاستی کنفیوژن کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ یہ آئین، قانون اور انسانی حقوق کی کھلی نفی بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لاپتہ افراد خود پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے چند ہی دنوں کے اندر اندر متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
سمی دین بلوچ کے مطابق دس دن قبل وزیراعلیٰ بلوچستان کا یہ بیان کہ “2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا”، بذاتِ خود اس بات کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وفاقی وزیر خواجہ آصف نے مسنگ پرسنز کے مسئلے کو “سراسر فراڈ” قرار دے کر اس کے وجود سے ہی انکار کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسی دوران پاکستان کے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے دیرینہ مسئلے کی تحقیقات کے لیے نئی کمیٹی کے قیام کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست خود اس مسئلے کے وجود کو تسلیم کر رہی ہے۔
سمی دین بلوچ نے آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی المیے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑنا نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے بلکہ یہ ریاستی بے حسی کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کا یہ کہنا کہ “جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی”، دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیان ایک ایسی بیٹی کے سامنے دیا گیا جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ سمی دین بلوچ نے یاد دلایا کہ ستمبر 2022 میں کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملاقات کی، ان کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا، ایک کمیشن قائم کرنے اور آئندہ جبری گمشدگیاں نہ ہونے کی واضح یقین دہانی کرائی، اور یہ وعدہ کیا گیا کہ جس شخص پر بھی الزام ہوگا اسے عدالت کے سامنے پیش کر کے قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مگر آج خود ایک وفاقی وزیر کی جانب سے یہ کہنا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا، اس آئین اور قانون کی صریح نفی ہے جس کی بالادستی کے دعوے ریاست کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔
سمی دین بلوچ نے سوال اٹھایا کہ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا یہ امید رکھنا بھی جرم ہے کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب خود حکومتی نمائندے آئین کی عملداری پر سوال اٹھائیں تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہے۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں۔
آخر میں سمی دین بلوچ نے کہا کہ جب تک جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جاتا، اس پر بات ہوتی رہے گی۔ محض بیانات، انکار یا جواز پیش کر کے ریاست اس سنگین انسانی جرم سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔


















































